دنیا بھر میں کرکٹ شائقین کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ مقابلہ صرف کھیل تک محدود نہیں بلکہ مالی اعتبار سے بھی انتہائی منافع بخش تصور کیا جاتا ہے۔ دونوں روایتی حریفوں کا ٹاکرا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے لیے سب سے زیادہ آمدن پیدا کرنے والے ایونٹس میں شمار ہوتا ہے۔
اندازوں کے مطابق ایک پاک بھارت میچ کی تجارتی مالیت 200 سے 250 ملین امریکی ڈالر، یعنی تقریباً 56 سے 70 ارب پاکستانی روپے تک ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر یہ مقابلہ اشتہارات، نشری حقوق اور اسپانسرشپ کے لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
عالمی کرکٹ کی مجموعی آمدن میں بھارت کا کردار سب سے نمایاں سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی کرکٹ سے حاصل ہونے والی آمدن کا 70 فیصد سے زائد حصہ بھارت سے آتا ہے۔ اسی بنیاد پر بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) آئی سی سی کی سالانہ آمدن میں سب سے بڑا حصہ حاصل کرتا ہے۔
آئی سی سی کے موجودہ چار سالہ مالیاتی دورانیے 2024 سے 2027 کے دوران بی سی سی آئی کو عالمی ادارے کی کل آمدن کا تقریباً 38.50 فیصد حصہ ملنے کی توقع ہے، جو تقریباً 65 ارب پاکستانی روپے بنتا ہے۔ یہ شرح انگلینڈ، آسٹریلیا، پاکستان، نیوزی لینڈ، سری لنکا، ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کے مجموعی حصے سے بھی زیادہ ہے۔
اس کے مقابلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو آئی سی سی کی آمدن میں تقریباً 5.75 فیصد حصہ ملتا ہے، جو لگ بھگ ساڑھے 9 ارب پاکستانی روپے کے برابر ہے۔ اس طرح دونوں بورڈز کے درمیان آمدن میں واضح فرق دیکھا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاک بھارت میچ کی غیر معمولی مقبولیت، کروڑوں ناظرین کی دلچسپی اور اشتہاری آمدن کے باعث دونوں ٹیمیں مالی طور پر فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ایک ہی مقابلہ نشر و اشاعت اور اسپانسرشپ کی مد میں بھاری آمدن پیدا کرتا ہے، جو عالمی کرکٹ کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یوں پاک بھارت ٹاکرا نہ صرف میدان میں سنسنی اور جذبات کو جنم دیتا ہے بلکہ مالی لحاظ سے بھی عالمی کرکٹ کی معیشت کا مرکزی ستون ثابت ہوتا ہے۔





