پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک حالیہ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی، جس میں پارٹی ارکان نے ملک بھر میں احتجاج پھیلانے کی تجویز پر غور کیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ڈاکٹرز کے معائنے کے دوران پارٹی نمائندہ کی غیر موجودگی پر تنقید کی گئی، اور کچھ ارکان نے علیمہ خان کو بھی ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا۔ ارکان نے کہا کہ جب پارٹی نے قاسم زمان کا نام دیا تو انہیں معائنے کے لیے جانا چاہیے، اور کسی بھی معائنے میں فیملی کا ہونا ضروری ہے، جبکہ حکومت علیمہ خان سمیت کسی بہن کو ملاقات کی اجازت نہیں دے رہی۔
اجلاس میں محمود خان اچکزئی کا پیغام بھی پیش کیا گیا، جس میں احتجاج کو مسلسل پرامن رکھنے کی تجویز دی گئی۔ ارکان نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کو فیصلہ کرنے دیا جائے، پارٹی ان کے ساتھ ہے۔ اجلاس میں یہ بھی رائے دی گئی کہ بانی پی ٹی آئی کے خاندان کی مداخلت کم کی جائے، کیونکہ احتجاج سے متعلق پالیسی میں ابہام پایا جاتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں احتجاج کی حکمت عملی اور ملک گیر دائرہ کار پر گہرے غور و فکر کے ساتھ منصوبہ بندی کی گئی، جس سے پارٹی کے اندرونی اختلافات اور سیاسی حساسیت عیاں ہو گئی۔





