پی ٹی آئی کے 50 سے زائد رہنما مقدمات کی زد میں، پولیس پر فائرنگ اور گاڑیوں کے شیشے توڑنے کا الزام عائد ۔
تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے متعدد ارکان قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی سمیت دیگر رہنماؤں پر اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق، پی ٹی آئی ارکان کے گارڈز نے پولیس پر سیدھی فائرنگ کی اور پولیس اہلکاروں کی یونیفارم پھاڑ دی۔
پولیس ذرائع کے مطابق، اگر بلٹ پروف جیکٹس موجود نہ ہوتیں تو اہلکاروں کی جان شدید خطرے میں پڑ سکتی تھی۔ مقدمے میں دہشت گردی، اقدام قتل اور دیگر سنگین دفعات کے تحت پی ٹی آئی کے 50 سے 55 ارکان اور رہنما نامزد کیے گئے ہیں۔
نامزد ارکان میں اقبال آفریدی، شفقت میاں، ملک حسن، سرائے احسن رضا، محمد اکرم، اسد زمان چیمہ، حسن نیازی، میاں مد شرار، عمر فاروق، مسیر وصی قطر، ملک عمر اسلم، سید رفعت شاہ، غیاب رشید، محمد سرفراز احمد اور دیگر شامل ہیں۔
مقدمہ تھانہ سیکرٹریٹ میں درج کیا گیا ہے، جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 (ATA) سمیت دیگر دفعات بھی شامل ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق، پولیس کے لیے یہ ایک شدید چیلنج تھا کیونکہ حملہ آوروں نے نہ صرف فائرنگ کی بلکہ گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دیے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے جاری کردہ اطلاع کے مطابق، قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کا اجلاس بھی اس سلسلے میں زیر غور بلز اور مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی بریفنگ کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں ضابطہ فوجداری (ترمیمی) بل 2025، پاکستان سٹیزن شپ (ترمیمی) بل 2025، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری فوڈ فورٹیفیکیشن بل 2025، اور دیگر فوجداری قوانین پر غور کیا جائے گا۔
اس ہنگامہ خیز واقعے کے بعد ملک کی سیاسی صورتحال ایک بار پھر کشیدگی کا شکار ہو گئی ہے اور عام شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔





