ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں کا اعلان کیا ہے۔
ایچ ای سی کے نئے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد نے وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی ہدایت کے مطابق اعلیٰ تعلیمی شعبے میں پالیسی سازی، معیارِ تعلیم، تحقیق اور انتظامی قیادت کو مضبوط کرنے کے لیے مختلف اعلیٰ سطح کے عہدوں پر تقرریوں کا اعلان کیا ہے۔
اسٹریٹجک پلاننگ، کوالٹی اشورنس اور ریسرچ، ڈیویلپمنٹ و انوویشن کے ارکان کی تقرری دو سال کے لیے کی جائے گی، جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع کا امکان بھی رکھا گیا ہے۔
ان تمام عہدوں کے لیے ماہانہ تنخواہ 9 لاکھ 50 ہزار روپے (تمام مراعات سمیت) مقرر کی گئی ہے اور ہر عہدے پر ایک ایک آسامی دستیاب ہے۔
یہ بھی پڑھیں : چارسدہ میں دو خواتین اساتذہ کے قتل کیس میں اہم پیش رفت
اسٹریٹجک پلاننگ اور کوالٹی اشورنس کے ارکان کی تعیناتی اسلام آباد اور پنجاب میں کی جائے گی، جبکہ ریسرچ، ڈیویلپمنٹ و انوویشن کے رکن کی تعیناتی کراچی میں ہوگی۔
ان عہدوں کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر 62 سال مقرر کی گئی ہے۔ امیدوار کے پاس کسی بھی شعبے میں پی ایچ ڈی اور کم از کم 20 سال کا نمایاں تجربہ ہونا ضروری ہے، اور انہیں اعلیٰ تعلیمی اداروں یا سرکاری و نجی شعبے میں قیادت، پالیسی سازی، اسٹریٹجک پلاننگ، پروگرام مینجمنٹ اور گورننس کا تجربہ بھی حاصل ہونا چاہیے۔
ایچ ای سی نے نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (ناہے) کے لیے منیجنگ ڈائریکٹر کی اسامی کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ عہدہ بھی دو سالہ معاہدے پر ہوگا، جس کے لیے ماہانہ تنخواہ 9 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس عہدے کے لیے امیدوار کے پاس اعلیٰ ڈگری، تعلیمی قیادت، ادارہ جاتی ترقی، انسانی وسائل کی تربیت، گورننس، ڈیجیٹل لرننگ، بین الاقوامی تعاون اور تعلیمی اصلاحات کا وسیع تجربہ ہونا چاہیے۔
اس کے علاوہ اکیڈمکس کے رکن کے لیے ایک مستقل آسامی بھی مشتہر کی گئی ہے، جس کے لیے بی پی ایس-22 اسکیل مقرر ہے۔ اس عہدے کے لیے کم از کم عمر 45 سال اور زیادہ سے زیادہ 55 سال رکھی گئی ہے، اور امیدوار کے پاس پی ایچ ڈی اور کم از کم 22 سال کا تدریسی، تحقیقی یا انتظامی تجربہ لازمی ہے۔ اس آسامی کے لیے کوٹہ پنجاب کا ہے۔
ایچ ای سی کے مطابق درخواستیں صرف آن لائن جمع کروائی جا سکتی ہیں اور آخری تاریخ 16 مارچ 2026ء مقرر کی گئی ہے۔ نامکمل یا مقررہ تاریخ کے بعد موصول ہونے والی درخواستیں قابل قبول نہیں ہوں گی۔
ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ صرف اہل امیدواروں کو انٹرویو کے لیے طلب کیا جائے گا، جبکہ سرکاری ملازمین مناسب چینل کے ذریعے اپنی درخواست جمع کروائیں گے۔





