بینائی متاثر ہونے کا دعویٰ، عمران خان کی صحت پر نیا بیان سامنے آگیا

اسلام آباد: وزیر مملکت طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے اور ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

نجی ٹی وی کےپروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیل میں ابتدائی طبی معائنہ اور علاج سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر دن کے وقت ممکن نہیں تھا، اس لیے علاج کا انتظام رات کے اوقات میں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی بیانات اور قیاس آرائیاں مسئلے کا حل نہیں بلکہ اصل توجہ عمران خان کی صحت اور علاج پر ہونی چاہیے۔

پروگرام میں شریک پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے بتایا کہ عمران خان کی بینائی متاثر ہوئی تھی اور ابتدائی طور پر جیل انتظامیہ اور ڈاکٹر کی جانب سے مناسب توجہ نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے مطابق ان کی دائیں آنکھ کی بینائی تقریباً 85 فیصد تک کم ہو گئی تھی، جس کی ابتدائی رپورٹس میں بھی تصدیق ہوئی۔

ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے مزید کہا کہ علاج میں تاخیر ایک سنگین مسئلہ تھا، تاہم بعد ازاں مناسب طبی سہولت اور عینک کے استعمال سے بینائی میں واضح بہتری آئی۔

انہوں نے واضح کیا کہ میڈیا میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور اصل صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

یہ بھی پڑھیں : عمران خان نے جیل سے باہر آنے سے انکار کیوں کیا؟ رانا ثنااللہ نے وجہ بتا دی

جبکہ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 26 نومبر 2024 کو ہونے والے پی ٹی آئی کے احتجاج سے قبل حکومت نے پارٹی کو مذاکرات کا موقع فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے محسن نقوی کی کوششوں کا درست انداز میں ذکر نہیں کیا۔

ان کے مطابق جب پی ٹی آئی کا دھرنا جاری تھا، تب پارٹی کے ایک ایم پی اے نے واپڈا دفاتر پر حملہ کیا، عملے کو زخمی کیا اور خود ہی بجلی بند کر دی۔

اس واقعے کے بعد وفاقی سطح پر فیصلہ کیا گیا کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں۔

رانا ثنااللہ نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور نے محسن نقوی سے بات کی، جس کے بعد فوری کارروائی نہیں ہوئی۔ بعد میں حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ڈی چوک کی بجائے سنگجانی میں بیٹھیں تاکہ مذاکرات کیے جا سکیں۔

رانا ثنااللہ کے مطابق یہ ایک سنجیدہ کوشش تھی جس میں حکومت اور پی ٹی آئی کی قیادت شامل تھی، لیکن بعد میں عمران خان نے اس تجویز سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ وہ جیل سے باہر نہیں آئیں گے۔

Scroll to Top