واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایٹمی معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے 10 دن کی مہلت دی ہے، جس کے اثرات عالمی مارکیٹس پر بھی دیکھے گئے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایران کے حوالے سے ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی مارکیٹس میں ہلچل مچ گئی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق تیل کی قیمت میں 2.19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان رہا۔
نیسڈیک اور ڈی جے آئی انڈیکس میں 0.9 فیصد کی کمی آئی۔ سونے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا جبکہ سرمایہ کار کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی جانب متوجہ ہوئے۔
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو نتائج سنگین ہوں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطی میں امن کے لیے ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونا چاہیے، ورنہ خطے میں امن قائم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
امریکی صدر نے ایران کے ساتھ بامعنی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ تقریباً 10 دنوں میں ایران کے بارے میں واضح صورتحال سامنے آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں : رمضان میں کھجور کی مارکیٹ میں غیر متوقع صورتحال سامنے آگئی
انہوں نے کہاہمیں ایران کے ساتھ کچھ کام کرنا ہے، ایران کو معاہدہ کرنا پڑے گا، ورنہ نتائج برے ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اس بیان نے نہ صرف توانائی کی عالمی مارکیٹ بلکہ اسٹاک اور سرمایہ کاری کے شعبوں پر بھی اثر ڈال دیا ہے۔
تیل اور سونے کی قیمتوں میں اضافہ سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ کرپٹو کرنسی میں دلچسپی اس غیر یقینی ماحول میں سرمایہ کاری کے متبادل کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی سطح پر ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے سنسنی پھیل گئی ہے، اور مارکیٹس میں تیزی و کمی کا رجحان اسی وجہ سے دیکھنے میں آیا ہے۔





