سرکاری ملازمین کے معاملات سے متعلق کیسز،وفاقی حکومت کی اپیل مسترد

سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی حکومت کی اپیل کو زائد المیعاد قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا اور حکومت کی جانب سے تاخیر معاف کرنے کی استدعا بھی مسترد کر دی۔

جسٹس عائشہ ملک نے وفاقی حکومت کی فنانس ڈویژں کی سروس ٹریبونل فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کرتے ہوئے

تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں واضح کیا کہ حکومت کوئی انوکھا سائل نہیں، اسے بھی عام شہری کی طرح قانون کا پابند ہونا پڑے گا۔

عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ ریاست شہریوں سے تو قانون منواتی ہے، لیکن خود بہانے نہیں بنا سکتی۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ دفاتر کے اندر رولز یا انتظامی مشکلات قانون کی پابندی سے بالاتر نہیں ہو سکتیں اور حکومت کی جانب سے افسران کے تبادلے یا کمیٹیوں کے اجلاس نہ ہونے کو تاخیر کی معافی کے جواز کے طور پر قبول نہیں کیا جائے گا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ بیوروکریسی کی سستی یا انتظامی ناکامی کا بوجھ عدالت یا دیگر فریق پر نہیں ڈالا جا سکتا اور قانون پر عملدرآمد افسران کی سہولت کے تابع نہیں بلکہ نظم و ضبط کے پابند ہونا چاہیے۔

وفاقی حکومت نے مقررہ 60 دن کی مدت گزرنے کے بعد 20 دن کی تاخیر سے اپیل دائر کی تھی، جسے عدالت نے قانون اور شفافیت کے تقاضوں کے تحت مسترد کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی آنکھ کا علاج ماہرین امراض چشم کریں گے، رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی،عطاء تارڑ

سپریم کورٹ نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ حکومت کو عدالت میں وہی پروٹوکول ملے گا جو عام آدمی کو دیا جاتا ہے اور کوئی رعایت یا فوقیت نہیں ہو گی۔

Scroll to Top