نوجوان زعفران وزیر کی بازیابی، شمالی وزیرستان میں خوشیوں کا سماں

پشاور: شمالی وزیرستان چار سالہ ننھی کرکٹر آئینہ وزیر کی ویڈیو بنانے والے نوجوان زعفران وزیر جو نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں اغواء کیا گیا تھا، بالآخر بازیاب ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق زعفران وزیر کو تحصیل شیوا سے اغواء کیا گیا تھا، جس کی تصدیق ڈی پی او شمالی وزیرستان سجاد حسین نے کی تھی۔

اغواء کے دوران ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس میں زعفران وزیر معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مسلح افراد کے قبضے میں ہے۔

آج زعفران وزیر کی محفوظ واپسی کے بعد مقامی لوگوں نے نوجوان کا شاندار استقبال کیا اور اسے پھولوں کے ہار پہنائے۔

اس موقع پر مقامی افراد میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور اغواء کے دوران پیدا ہونے والی بے چینی ختم ہو گئی۔

ڈی پی او شمالی وزیرستان نے بتایا کہ زعفران وزیر کی بازیابی کے لیے مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے مسلسل کوششیں کر رہے تھے، اور نوجوان کی بحفاظت واپسی ان کی کامیاب کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔

یہ واقعہ شمالی وزیرستان میں کمسن افراد کی ویڈیوز کے وائرل ہونے اور ان کے اثرات کے حوالے سے ایک اہم پہلو بھی اجاگر کرتا ہے، جبکہ مقامی کمیونٹی نے نوجوان کی محفوظ واپسی پر خوشی کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں : ​شمالی وزیرستان : کمسن کرکٹر آئینہ وزیر کی ویڈیو وائرل کرنے والے نوجوان کے ساتھ افسوسناک واقعہ

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان کی تحصیل شیواہ سے تعلق رکھنے والے سوشل ایکٹوسٹ ظفران وزیر کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا ہے۔

ظفران وزیر حال ہی میں اس وقت سرخیوں میں آئے تھے جب انہوں نے اپنے گاؤں میں لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے والی کمسن بچی آئینہ وزیر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی۔

مقامی ذرائع کے مطابق، ظفران وزیر کو ان کے علاقے سے اس وقت اٹھایا گیا جب وہ معمول کی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسلح افراد انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے گئےجس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

​ظفران وزیر نے چند روز قبل ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں ننھی آئینہ وزیر کو اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بے حد پذیرائی ملی تھی۔ ویڈیو کی وجہ سے آئینہ وزیر کی صلاحیتوں کو ملک بھر میں سراہا گیا تھا۔

Scroll to Top