ہم عموماً ہیڈفونز کو کام، تفریح، ورزش یا آرام کے دوران استعمال کرتے ہیں لیکن حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب تقریباً ہر ہیڈفون میں ایسے کیمیکلز موجود ہیں جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
یہ مادے کینسر، دماغی نشوونما میں رکاوٹ، اور مردانہ خصوصیات کی کمزوری جیسے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
دی گارڈین کے مطابق یہ تحقیق ٹاکس فری لائف فار آل نے انجام دی جو سینٹرل یورپی سول سوسائٹی گروپس کے تعاون سے چل رہی ہے۔
اس میں بوس، پیناسونک، سامسنگ اور سینیہائزر جیسے معروف برانڈز کے ہیڈفونز شامل تھے اور ہر نمونے میں خطرناک کیمیکلز کی موجودگی پائی گئی۔
کیمیکلز کی ماہر کارولینا برابکووا کے مطابق یہ خطرناک مادے صرف اضافی اجزاء نہیں ہیں بلکہ ہیڈفونز کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ورزش یا پسینے کی صورت میں یہ عمل تیز ہو جاتا ہے۔
ٹاکس فری نے 81 مختلف ہیڈفونز کی جانچ کی، جس میں بیس فینول اے تقریباً 98 فیصد نمونوں میں پایا گیا اور اس کے متبادل بیس فینول ایس بھی تقریباً تین چوتھائی نمونوں میں موجود تھا۔
یہ مادے عام طور پر پلاسٹک کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور انسانی ہارمونز کے نظام میں مداخلت کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں مردوں میں نسوانیت، لڑکیوں میں قبل از وقت بلوغت اور کینسر جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔
ہیڈفونز میں فتھالیٹس ، کلورینٹڈ پیرافنز اور فلیم ریٹارڈنٹس جیسے برومینیٹڈ اور آرگنو فاسفیٹ بھی پائے گئے، اگرچہ یہ کیمیکلز عموماً کم مقدار میں موجود تھے لیکن روزانہ استعمال کے مجموعی اثرات صحت کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔





