افغانستان دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، سرحد پار دہشت گردی ناقابل برداشت، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، صدر زرداری

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کے حالیہ اقدامات اس کے بنیادی حق سے ماخوذ ہیں کہ وہ اپنے عوام کو سرحد پار سے آنے والی دہشت گردی سے بچائے اور یہ اقدامات ان بار بار کی وارننگز کے بعد کیے گئے ہیں جنہیں نظر انداز کیا گیا۔

صدر آصف زردارئ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی برادری کو خبردار کیا تھا کہ جب دہشت گرد گروپوں کو سرحد پار میں جگہ، سہولت یا بے قابو رہنے کی اجازت دی جاتی ہے تو اس کے نتائج دنیا بھر کے معصوم شہری بھگتتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں اس صورتحال کو سختی سے مسترد کرتا ہے جہاں طالبان حکومت نے 11 ستمبر سے پہلے جیسی یا اس سے بھی بدتر حالات پیدا کر دیے ہیں۔

صدر زرداری نے کہا کہ یہ بہت تشویش کی بات ہے کہ کابل میں غیر سرکاری حکام جو اقوام متحدہ کے ذریعے تسلیم شدہ نہیں ہیں نے دہشت گردوں کو افغان زمین سے کارروائی کرنے کی اجازت دی۔

یہ ان کے دوحہ معاہدے کے وعدوں کی خلاف ورزی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ افغان زمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اینالیٹیکل سپورٹ اور سنکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی حالیہ رپورٹ نے پاکستان کے طویل مدتی موقف کو مزید تقویت دی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد رکن ممالک مستقل طور پر رپورٹ کرتے ہیں کہ داعش خراساں، تحریک طالبان پاکستان القاعدہ، مشرقی ترکستان اسلامی تحریک، جماعت انصار اللہ، اتحاد المجاہدین پاکستان اور دیگر گروپ افغانستان میں موجود ہیں، کچھ گروپوں نے افغانستان کو بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے استعمال کیا ہے یا کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز نے پشین میں پاک افغان سرحد پر دہشتگردوں کی دراندازی ناکام بنا دی، 7خوارج ہلاک

صدر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی یہ تشخیص واضح کرتی ہے کہ ان تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیاں پڑوسی ممالک بشمول پاکستان کے لیے سنگین خطرات ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ واضح وارننگز اور بار بار کی کوششوں کے باوجود افغان حکام نے ان عناصر کے خلاف قابل اعتماد اور تصدیق شدہ کارروائی نہیں کی۔

صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان نے کافی عرصے تک ضبط اختیار کیا اور اپنی کارروائی کو سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک محدود رکھا۔

صدر زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ تشدد کے منصوبہ ساز، سہولت کار اور سرپرست کہاں موجود ہیں۔ اگر پاکستان میں خونریزی جاری رہی تو ذمہ داران ناقابل رسائی نہیں رہیں گے۔

صدر زرداری نے اس بات کو بھی دہرایا کہ پاکستان اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ امن، استحکام اور تعاون پر مبنی تعلقات چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن جھوٹ، ڈھونگ یا دہشت گردی کے خلاف غیر عملی رویے پر قائم نہیں رہ سکتا اور پاکستانی شہریوں کی حفاظت سب سے اہم اور غیر قابل مذاکرات ہے۔

Scroll to Top