کوہاٹ میں ڈیوٹی سے گھر واپس جانے والی ڈاکٹر مہوش کے بہیمانہ قتل پر سیاسی و سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے اس اندوہناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک مسیحا کو ڈیوٹی سے واپسی پر سرِراہ گولیوں کا نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور معاشرے کی اخلاقی ناکامی کی عکاسی ہے۔ انہوں نے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کے خلاف تشدد کا یہ پہلا واقعہ نہیں، جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اے این پی واقعے کے حوالے سے ملگری ڈاکٹران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ڈاکٹر مہوش کو انصاف دلانے کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائے گی۔
میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ پہلے ہی محدود وسائل اور شدید دباؤ میں خدمات انجام دے رہے ہیں، ایسے میں ان کے تحفظ کو یقینی بنانا ریاست اور حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے۔
واقعے کے بعد طبی برادری میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے اور سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔





