کیا ڈینگی دوبارہ سر اٹھا رہا ہے؟ وزیر صحت کا اہم بیان سامنے آگیا

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے ڈینگی ایکشن پلان 2026 کے عملی نفاذ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمٰن کی ہدایت پر تمام متعلقہ محکمے اور ضلعی انتظامیہ ڈینگی کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جامع اور مؤثر اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

وزیر صحت خلیق الرحمٰن نے ڈینگی ایکشن پلان 2026 کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں صوبے بھر میں کی جانے والی کارروائیوں کی تفصیلات پیش کی گئیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اب تک 94 ہزار سے زائد گھروں اور 1 لاکھ 83 ہزار پانی کے کنٹینرز کا معائنہ کیا جا چکا ہے، اور تاحال ڈینگی لاروا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ یہ اعداد و شمار جاری احتیاطی اقدامات اور مربوط فیلڈ آپریشنز کی کامیابی کا مظہر ہیں۔

وزیر صحت نے تمام ضلعی انتظامیہ، ہسپتالوں اور سرویلنس ٹیموں کو ہدایت کی کہ وہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ بروقت تشخیص، فوری ردعمل اور عوامی آگاہی ڈینگی ایکشن پلان کے بنیادی ستون ہیں۔

اجلاس کے دوران کوہاٹ میں ڈینگی کے دو مثبت کیسز رپورٹ ہونے پر صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت نے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے۔

ڈینگی تشخیصی کٹس اور دیگر ضروری سامان کی خریداری کو حتمی شکل دی گئی، جبکہ کمیونٹی سطح پر نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا۔

ضلعی و تحصیل کی سطح پر ریپڈ رسپانس ٹیمیں فعال کر دی گئی ہیں اور ہسپتالوں میں ڈینگی تشخیصی کٹس، مختص وارڈز اور تربیت یافتہ طبی عملے کی دستیابی یقینی بنائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا کے شہریوں کے لیے خوشخبری: گھر بیٹھے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کریں

وزیر صحت خلیق الرحمٰن نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ محکمہ صحت کی ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں، اپنے اردگرد کھڑے پانی کا خاتمہ کریں اور جاری کردہ احتیاطی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈینگی ایکشن پلان 2026 محض ایک ردعمل نہیں بلکہ صوبے بھر میں زیرو لاروا اسٹیٹس برقرار رکھنے اور عوام کے تحفظ کے لیے جامع اور پیشگی حکمت عملی ہے۔

محکمہ صحت روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ، ڈیٹا پر مبنی سرویلنس اور بین الادارہ جاتی تعاون کے ذریعے اس امر کو یقینی بنائے گا کہ صوبہ ڈینگی کے خطرے سے محفوظ رہے۔

Scroll to Top