افغان طالبان کی جارحیت کے خلاف پاکستان کا آپریشن غضب للحق کامیابی سے جاری ہے اور دشمنوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے،اس آپریشن میں مزید تیزی لاتے ہوئے پاک فضائیہ اور افواج پاکستان نے افغانستان کے تمام بارڈر سیکٹر پر بڑا حملہ کر دیا.
یہ کارروائی 26 فروری کو ٹی ٹی اے کی جانب سے شروع کی گئی کارروائیوں کے جواب میں کی گئی، جس کا مقصد دشمن کی عسکری صلاحیت اور اس سے منسلک ڈھانچے کو کمزور کرنا تھا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران مختلف سیکٹرز میں پانچ نئی پوسٹیں قبضے میں لے لی گئیں جبکہ کئی اہم دشمنی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ خصوصاً تیرہ، مہمند اور خیبر کے علاقوں میں ٹی ٹی اے کی نفری بڑھانے کی کوشش کی گئی، لیکن پاکستانی فورسز کی مؤثر فائرنگ نے ان کوششوں کو ناکام بنایا۔ دن کے مختلف اوقات میں چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کے کئی واقعات ہوئے، جن کا مارٹر اور توپ خانے سے بھرپور جواب دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : ففتھ جنریشن وار، اسرائیل نے اربوں ڈالر لگا کر پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنے پروپیگنڈا موساد کے گوگل ایڈز چلا دئیے،ایرانی شہریوں کو باہر نکلنے کیلئے اکسایا جانے لگا
ذرائع کا کہنا ہے کہ وائرلیس کمیونیکیشن انٹرسیپٹس اور زمینی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹی ٹی اے اور خارجی عناصر کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ تصدیق شدہ اعداد و شمار کے مطابق، ٹی ٹی اے کے 415 افراد ہلاک اور 580 سے زائد زخمی ہوئے، 182 پوسٹیں تباہ اور 31 پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں 186 ٹینک، بکتر بند اور دیگر گاڑیاں تباہ کی گئیں، جبکہ 41 مقامات کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔
اطلاعات کے مطابق سرحد کے متعدد مقامات پر ٹی ٹی اے کے عناصر نے اپنی پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا کر کشیدگی کم کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
ژوب سیکٹر میں 32 مربع کلومیٹر پر مشتمل گھدوانہ انکلیو مکمل طور پر پاکستانی فورسز کے کنٹرول میں ہے، اور اس علاقے میں دشمن کی کئی پوسٹیں خالی کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن غضب للحق، افغان طالبان رجیم کو بھاری نقصان، ہلاک خوارج کی تعداد 415 ہوگئی، 580 زخمی
قبضے میں لیا گیا اسلحہ، گاڑیاں اور دیگر عسکری سامان عقبی ہیڈکوارٹر منتقل کر دیا گیا ہے، سیکیورٹی فورسز صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور سرحدی علاقوں میں دفاعی پوزیشن مضبوط رکھتے ہوئے مکمل چوکس ہیں۔





