وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے بیان کا خیر مقدم

پاکستان نے اپنے دفاع میں آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا ،اسحاق ڈار

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےکہاہے کہ پاکستان ایران کی صورتحال کو قریب سے مانیٹر کر رہا ہے اور افغانستان کی صورتحال پر دوست ممالک کو اعتماد میں لینا چاہتا تھا۔

سفر اکو ایران اور افغانستان کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی تمام سفارتی کوششیں بروئے کار لا رہا ہے، ہماری تمام تر کوششیں کشیدگی کم کرانے پر مرکوز ہیں اور پاکستان علاقائی ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔

اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ حالیہ صورتحال انتہائی نازک ہے، تمام ریاستیں دوسرے ممالک کی علاقائی خود مختاری کے لحاظ سے عالمی قوانین کی پابند ہیں اور مذاکرات و سفارتکاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے جس پر پاکستان مسلسل زور دیتا آرہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کو خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کا انتہائی افسوس ہے کیونکہ یو اے ای حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہوا ہے جبکہ ایران کی جانب سے حملے اپنے دفاع میں کئے گئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے غزہ پیس بورڈ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی اور غزہ میں امن کے قیام کیلئے موثر کردار ادا کیا ہے، اسی طرح چین، امریکا اور دیگر ممالک کے ساتھ ہمارے بہترین تعلقات ہیں۔

اسحاق ڈار کے مطابق گذشتہ سال افغانستان کے تین دورے کئے جن کے دوران تجارت، معیشت اور دیگر امور پر گفتگو ہوئی ۔

انہوں نے کہا کہ کئی بار افغانستان سے کہا گیا کہ اپنی سرزمین پڑوسی ممالک میں دہشت گردی کے لئے استعمال نہ ہونے دیں تاہم افغانستان میں اب بھی دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہیں موجود ہیں۔

انہوں نےکہاکہ کئی بار افغانستان سے بات چیت کی گئی جس کا نتیجہ صفر رہا جس کے بعد پاکستان نے اپنے دفاع میں آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا اور کابل، قندھار، پکتیا، ننگرہار، خوست اور پکتیکا میں ٹارگٹڈ آپریشن کئے گئے جس میں افغانستان کی 34 چیک پوسٹوں پر قبضہ کیا اور 100 سے زائد تباہ کردیں۔

Scroll to Top