خیبر پختونخوا حکومت نے 52 ارب سے زائد کے 32 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیدی جن میں 17 ارب روپے کی لاگت سے 18 روڈ سیکٹر کی سکیمیں، 6 ماڈل سکولوں کے قیام کی ریوائز سکیموں اور پشاور رنگ روڈ پر انڈر پاسز کے قیام کی منظوری شامل ہے۔
محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات خیبر پختونخوا میں صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے تیرہویں اور چودھویں اجلاس کا بالترتیب انعقاد کیا گیا۔
اجلاس کے حوالے سے بتایا گیا کہ پی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں 52 ارب سے زائد کے 32 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخوا محمد سہیل خان آفریدی کی خصوصی ہدایات پر خیبر پختونخوا میں معیاری تعلیم تک رسائی کو بہتر بنانے کیلئے کئی اہم منصوبوں کی منظوری دی گئی ۔ مانسہرہ شہر میں لڑکوں کیلئے ڈگری کالج کی منظوری دی گئی ، جس سے علاقے میں اعلیٰ تعلیم تک رسائی بڑھے گی ، یارہ خیل مرغز صوابی میں سرکاری پرائمری سکول اور سرکاری گرلز پرائمری سکول کی منظوری دی گئی۔
اس طرح خیبر پختونخوا کے 6 ماڈل سکولوں کے قیام کی ریوائز سکیم کی منظوری بھی دی گئی، جن میں کرک، ہری پور، چارسدہ، ہنگو، بلگرام اور بنوں میں ماڈل سکولوں کا قیام شامل ہے، اس حوالے سے ہدایت کی گئی کہ ان سکولوں کو جلد سے جلد فعال بنایا جائے تاکہ طلبا کو اس کے ثمرات جلد سے جلد حاصل ہوں۔
صوبائی دارالحکومت کے معروف ترین پشاور رنگ روڈ پر انڈر پاس کی منظوری بھی دی گئی، اس منصوبے سے صوبائی دارالحکومت میں ترسیلات کوجدید بنانے میں مدد ملے گی اور سب سے مصروف – راہداری پر بلا تعطل سفر کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے چودھویں اجلاس سیکٹر کے 18 سکیموں کی منظور ی دی گئی جس کی کل لاگت 17 ارب روپے ہے، جس میں 8 فزیبلٹی سٹڈیز شامل ہیں۔
یہ منصوبے صوبے بھر میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو نمایاں طور پر تبدیل کریں گے، دور دراز علاقوں تک رسائی بہتر ہوگی ، سفر محفوظ اور اقتصادی خوشحالی آئے گی۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایت پر کلی سے ہکلا تک 26.6 کلو میٹر روڈ پراجیکٹ کا اہم منصوبہ بھی منظور کیا گیا جس کی لاگت 6163 ملین روپے ہے اور یہ صوبہ کیلئے ایک اہم انفراسٹرکچرل منصوبہ ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت کلی سے ہکلا تک سڑک کی تعمیر سے علاقے میں سفر کے دورانیے میں کمی آئے گی اور لوگوں کو محفوظ سفر کی سہولت ملے گی۔





