افواج پاکستان اور پاک فضائیہ نے آج افغانستان پر 10 بڑے حملے کیے

افواج پاکستان اور پاک فضائیہ نے آج پیر کے روز افغانستان میں مختلف مقامات پر 10 بڑے فضائی حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں درجنوں افغان طالبان ہلاک ہو گئے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے پاک افغان سرحد کے متعدد سیکٹرز میں ایک وسیع پیمانے پر “پنشمنٹ فائر پلان” شروع کیا ہے جس کا مقصد تحریک طالبان افغانستان کے فوجی ڈھانچے کو منظم طریقے سے ختم کرنا ہے۔

آج دن بھر بھاری ہتھیاروں کی فائرنگ سے دشمن کی مزید 6 چوکیوں کو تباہ کیا گیا جبکہ پاک فضائیہ نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور فوجی اثاثوں کو نشانہ بناتے ہوئے افغانستان کے اندرونی علاقوں میں 10 درست فضائی حملے کیے۔

شمالی وزیرستان کے زندہ سیکٹر میں افغان طالبان کی جانب سے فورسز کو جمع کرنے کی کوشش کو آرٹلری، ٹینک اور مارٹر فائر کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا ہے۔ اگرچہ افغان طالبان نے فاصلے سے چھوٹے ہتھیاروں کے ذریعے فائرنگ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کوششوں کو فوری طور پر دبا دیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جہاں افغان طالبان اور خارجیوں کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے وہیں پورے محاذ پر کسی بھی پاکستانی سیکیورٹی اہلکار کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

نقصانات کے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ افغان طالبان کو غیر معمولی جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے جس میں اب تک 458 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ دشمن کی 202 چوکیاں تباہ اور 33 پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ 196 ٹینک، اے پی سی اور دیگر فوجی گاڑیاں تباہ کی گئی ہیں جبکہ مجموعی طور پر 53 مقامات کو فضائی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاکستانی فورسز کے اس شدید ردعمل نے افغان طالبان کے حوصلے پست کر دیے ہیں اور سرحد کے متعدد مقامات پر افغان فورسز نے اپنی بقیہ پوزیشنوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے ہیں جو کہ کشیدگی میں کمی اور مزید لڑائی سے بچنے کی خواہش کی علامت ہے۔

چترال سیکٹر میں مقامی عمائدین کے ذریعے افغان طالبان کی جانب سے ایک فلیگ میٹنگ کی درخواست بھی موصول ہوئی ہے تاکہ وہ اپنے ان 5 اہلکاروں کی لاشیں واپس لے سکیں ۔

پاکستان نے ژوب سیکٹر میں 32 مربع کلومیٹر کے گڈوانہ انکلیو پر اپنا کنٹرول مکمل طور پر مستحکم کر لیا ہے جہاں قریبی تمام افغان چوکیاں یا تو خالی ہو چکی ہیں یا وہاں سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ہیں۔

اس نئے حاصل کردہ علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے بھاری مشینری کے ذریعے 7 کلومیٹر طویل خندق کھودنے کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی دراندازی کو روکا جا سکے۔

Scroll to Top