امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائل خطے کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے تھے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےصدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ایران بیلسٹک میزائل اور جوہری ہتھیار تیار کر رہا تھا اور ان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل براہِ راست ایک بڑا خطرہ ہیں، حتیٰ کہ ایران کے پاس ایسے میزائل بھی موجود تھے جو امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو کے دوران بتایا کہ امریکہ نے ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی سائٹس کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے اور ماضی میں بھی ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کیے گئے ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ایران کی طرف زمینی فوج بھیجنے کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔
ایران کے خلاف ہونے والی حالیہ کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ان حملوں میں ایران کے 49 رہنماؤں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : افواج پاکستان اور پاک فضائیہ نے آج افغانستان پر 10 بڑے حملے کیے
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران میں بہت جلد ایک بڑی کارروائی کی ضرورت پڑ سکتی ہے کیونکہ ایران کے ساتھ جو ڈیل کی گئی تھی، اس نے امریکی وارننگز کو مکمل طور پر نذر انداز کیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنی ترجیحات واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے میزائل پروگرام کو ختم کرنا ہماری پہلی ترجیح ہے اور ہم اسے کسی صورت جوہری ہتھیاروں کے حصول کی اجازت نہیں دیں گے۔





