آپریشن غضب للحق: پاک فضائیہ کی کارروائی، ننگرہار میں افغان طالبان کی خوگانی بیس تباہ

آپریشن غضب للحق کے دوران افواجِ پاکستان نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے افغانستان کے صوبے ننگرہار میں ایک انتہائی کامیاب کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی اہم خوگانی بیس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔

اس فضائی حملے میں دشمن کے بنیادی ڈھانچے اور محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

دوسری جانب پاکستان آرمی کی آرٹلری نےضلع خیبرکے علاقے لنڈی کوتل کے مقام پرپاک افغان سرحد پر ایک انتہائی کامیاب اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے جلال آباد کے مشہور افغان کمانڈر قہرمان کو اس کے ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات کمانڈر قہرمان کی سربراہی میں دہشت گردوں کا ایک گروہ تورخم سرحد کے قریب پہنچنے اور پاکستانی حدود میں مداخلت کی کوشش کر رہا تھا۔

پاک فوج کی آرٹلری نے ٹھوس انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اس گروہ کی نقل و حرکت کو مانیٹر کیا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے اس جتھے کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کمانڈر قہرمان موقع پر ہی اپنے ساتھیوں سمیت مارا گیا۔

ہلاک ہونے والے دہشت گرد کمانڈر قہرمان کا تعلق افغانستان کے علاقے تورخم سے تھا جو جلال آباد کے قریب واقع ہے اور وہ خطے میں تخریب کاری کی مختلف سرگرمیوں میں سرگرم تھا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ نےافغانستان کی جارحیت کے جواب میں کئی روز سے جاری آپریشن غضب للحق کے تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آپریشن کے دوران اب تک 464 افغان طالبان ہلاک جبکہ 665 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹویٹر) پر جاری کردہ بیان میں وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستانی افواج سرحد پار سے ہونے والی کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور موثر جواب دے رہی ہیں اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے اب تک افغان طالبان کی 188 چیک پوسٹوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے جبکہ 31 اہم پوسٹوں پر قبضہ کر کے وہاں اپنا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

انہوں نے مذید بتایاکہ زمینی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ فضائی کارروائیوں میں بھی بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے جس کے دوران افغانستان کے اندر مختلف مقامات پر دہشت گردوں کے زیر استعمال 192 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنیں تباہ کر دی گئی ہیں۔

ان نقصانات نے سرحد پار سے ہونے والی اشتعال انگیزی کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے اور فورسز کی پیش قدمی جاری ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ پاک فضائیہ نے بھی اس آپریشن میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور اب تک افغانستان بھر میں دہشت گردوں کے 56 اسٹریٹجک مقامات کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان فضائی حملوں میں دشمن کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور اسلحہ کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا تاکہ سرحد پر دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

Scroll to Top