ایچ ای سی کا تمام یونیورسٹیوں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کورس لازمی قرار دینے اور ڈگریوں کی تصدیق کا نظام مکمل آن لائن کرنے کا اعلان

چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر نیاز احمد اختر نے کہا ہے کہ ایچ ای سی ملک میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں جامع اصلاحات کے لیے پرعزم ہے اور جامعات کو قومی ضروریات اور عالمی رجحانات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں انڈرگریجویٹ سطح پر مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا تین کریڈٹ آور کورس لازمی قرار دیا جا رہا ہے تاکہ طلبہ کو ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے۔

پروفیسر نیاز احمد اختر نے بتایا کہ یونیورسٹی تعلیم کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے آؤٹ کم بیسڈ ایجوکیشن کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو نصاب، تعلیمی نتائج اور امتحانی نظام میں بہتری کے لیے سفارشات مرتب کرے گی۔

چیئرمین ایچ ای سی کے مطابق ریسرچ، انوویشن اور کمرشلائزیشن دفاتر کو مضبوط بنانے کے لیے بھی خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کا مقصد صنعت اور جامعات کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اور تحقیق کو تجارتی شکل دینا ہے۔

انہوں نے ایک اہم سہولت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایچ ای سی نے اب ڈگری اور دستاویزات کی تصدیق کا نظام مکمل طور پر آن لائن کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد طلبہ کو تصدیق کے عمل کے لیے ایچ ای سی کے دفاتر آنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس کے علاوہ پاکستانی جامعات کی عالمی درجہ بندی بہتر بنانے کے لیے رینکنگ کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے جو یونیورسٹیوں کو عالمی سطح پر بہتر مقام دلانے کے لیے حکمت عملی فراہم کرے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کے لیے صوبائی سطح پر بھی خصوصی کمیٹیاں قائم کی جا رہی ہیں جن میں وائس چانسلرز، صوبائی ایچ ای سیز اور ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹس کے نمائندے شامل ہوں گے۔ ایچ ای سی انجینئرنگ، میڈیکل ایجوکیشن اور زراعت کے ڈگری پروگرامز کے معیار کا بھی جائزہ لے گا تاکہ انہیں عالمی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔

چیئرمین نے واضح کیا کہ انڈرگریجویٹ داخلوں کے لیے ٹیسٹنگ سسٹم کو مزید شفاف بنایا جا رہا ہے کیونکہ کسی بھی یونیورسٹی کے گریجویٹس کا معیار ان کے داخلہ لینے والے طلبہ کے معیار سے جڑا ہوتا ہے۔

پروفیسر نیاز احمد اختر نے نئی جامعات کے قیام کے حوالے سے بتایا کہ قانون سازی سے قبل ایچ ای سی سے این او سی حاصل کرنا لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ جامعات کو تمام خالی انتظامی عہدے فوری طور پر پر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

حکومتی لیپ ٹاپ اسکیم کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اب تک 65 ہزار لیپ ٹاپ طلبہ میں تقسیم کیے جا چکے ہیں اور باقی ماندہ لیپ ٹاپ بھی جلد تقسیم کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جامعات میں اطلاقی تحقیق اور انٹرپرینیورشپ کے فروغ کے لیے اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں تاکہ تحقیقی منصوبوں کو عملی حل اور معاشی مواقع میں تبدیل کیا جا سکے۔

Scroll to Top