چارسدہ :محکمہ تعلیم کی بڑی کارروائی،سابق ڈی ای او سمیت 6 افسران برطرف

الف خان شیرپاؤ
خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں چارسدہ سے متعلق ایک بڑے انتظامی اسکینڈل کے بعد حکومت نے سخت کارروائی کرتے ہوئے سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (زنانہ) سمیت چھ افسران اور اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق ان افسران کے خلاف ہونے والی باضابطہ انکوائری میں بدانتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال سے متعلق الزامات ثابت ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔

محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنے والوں میں مسز ثریا بیگم (سابق ڈی ای او زنانہ چارسدہ)، مسز حمیم بیگم (ایس ڈی ای او زنانہ)، عبدالرحمان اور محمد حاشر (جونیئر کلرکس)، فضل الٰہی (سینئر کلرک) اور زوار (جونیئر کلرک) شامل ہیں۔

ان تمام افراد کے خلاف خیبر پختونخوا گورنمنٹ سرونٹس ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز 2011 کے تحت محکمانہ کارروائی کی گئی۔

ذرائع کے مطابق چارسدہ کے محکمہ تعلیم میں مختلف انتظامی معاملات اور مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے شکایات سامنے آنے کے بعد حکومت نے باضابطہ انکوائری کا حکم دیا۔

اس مقصد کے لیے ایک دو رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی جس کی سربراہی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمران علی خان نے کی جبکہ ایبٹ آباد کے گورنمنٹ ہائی سیکنڈری اسکول نمبر 2 کے پرنسپل بختیار احمد کمیٹی کے رکن تھے۔

انکوائری کمیٹی نے متعلقہ ریکارڈ، دستاویزات اور بیانات کا جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کی جس میں الزام عائد کیا گیا کہ متعلقہ افسران اور اہلکاروں نے سرکاری قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ تحقیقات کے دوران شواہد اور ریکارڈ کی بنیاد پر الزامات کو درست قرار دیا گیا۔حکومتی طریقہ کار کے مطابق ملزمان کو صفائی کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اس مقصد کے لیے محکمہ آبپاشی کے سیکریٹری عبدالباسط کو ہیرنگ آفیسر مقرر کیا تاکہ وہ ملزمان کا مؤقف سن کر اپنی سفارشات پیش کریں۔

سماعت کے بعد ہیرنگ آفیسر نے بھی انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی توثیق کرتے ہوئے حکومت کو رپورٹ پیش کی جس میں مذکورہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی گئی۔

دستاویزات کے مطابق کیس کے تمام شواہد، انکوائری رپورٹ اور ہیرنگ آفیسر کی سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے خیبر پختونخوا گورنمنٹ سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2011 کے رول 14(5)(ii) کے تحت ان افسران اور اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف (Removal from Service) کرنے کی منظوری دے دی۔

محکمہ تعلیم کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کیس کے بعض پہلو ایسے بھی ہیں جن پر مزید تحقیقات کی ضرورت ہو سکتی ہے، کیونکہ ابتدائی شکایات میں انتظامی بے ضابطگیوں کے علاوہ دیگر معاملات کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق اس کارروائی کے بعد چارسدہ کے محکمہ تعلیم میں مزید احتسابی اقدامات کا امکان بھی موجود ہے۔

Scroll to Top