جنوبی وزیرستان میں خوارج کا نہتے شہریوں پر دوسرا حملہ ، بچوں اور خواتین سمیت 12 افراد شدید زخمی،الزام سیکورٹی فورسز پر لگانے کی ناکام کوشش

جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں شر پسند عناصر کی جانب سے کواڈ کاپٹر کے ذریعے عام شہریوں کے گھر پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 12 افراد شدید زخمی ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب اس سے قبل میران شاہ اور وانا میں بھی عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے ایک شہری کے گھر کو کواڈ کاپٹر کے ذریعے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں گھر میں موجود افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جنہیں فوری طور پر قریبی طبی مراکز منتقل کر دیا گیا۔

علاقہ مکینوں اور عینی شاہدین کے مطابق یہ حملہ خوارج کی جانب سے کیا گیا جس کا مقصد علاقے میں خوف و ہراس پھیلانا اور سویلین آبادی کو نشانہ بنانا تھا۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں کے بعد شر پسند عناصر سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈا کے ذریعے اس قسم کے واقعات کو سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان بداعتمادی پیدا کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، سرحد پر باڑ کاٹنے کی کوشش ناکام بنادی، ایک دہشت گرد ہلاک

ذرائع کے مطابق حملے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر اس واقعے کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز سے منسوب کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم مقامی افراد اور عینی شاہدین نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ خوارج کی کارروائی ہے۔

مقامی عمائدین نے کہا ہے کہ شر پسند عناصر اس طرح کے واقعات کے ذریعے نہ صرف معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ علاقے میں انتشار اور بدامنی پھیلانے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔

Scroll to Top