امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے جنوبی شہر میناب میں واقع لڑکیوں کے ایک پرائمری سکول پر حملہ ایران نے کیا تھا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ کسی قسم کے سمجھوتے کی کوشش نہیں کر رہا، امریکا ایران میں ایسا صدر دیکھنا چاہتا ہے جو ملک کو جنگ کی طرف نہ لے جائے۔
امریکی صدر ڈوور ایئر فورس بیس پہنچے جہاں انہوں نے کویت میں ایرانی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے 6 امریکی فوجیوں کے تابوت وصول کیے اور ان کے اہلخانہ سے ملاقات بھی کی، اس موقع پر خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس بھی موجود تھے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت ردعمل کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر شدید حملے کیے جائیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کبھی امریکا کا عظیم اتحادی تھا لیکن اب امریکا کو مشرق وسطیٰ میں طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کے لیے برطانیہ کی ضرورت نہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ فی الحال ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ روس ایران کی مدد کر رہا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ مناسب وقت پر اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو کو دوبارہ بھرنا شروع کر دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کو ایران پر حملہ مہنگا پڑ گیا، صرف 100 گھنٹوں میں 10 کھرب روپے کا نقصان
واضح رہے کہ کویت میں ایرانی ڈرون حملے میں امریکی آرمی ریزرو کے 6 اہلکار ہلاک ہوئے تھے جن میں میجر جیفری اوبرائن، چیف وارنٹ آفیسر رابرٹ مارزان، کیپٹن کوڈی کھورک، سارجنٹ نیکول امور، نوح ٹیٹجنس اور سارجنٹ ڈیکلین کووڈی شامل ہیں۔





