عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں آج ایک بار پھر زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور پیدا شدہ عالمی عدم استحکام کو قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی کروڈ آئل میں 12 فیصد اضافے کے بعد قیمت 90.89 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، اور فی الحال امریکی کروڈ آئل 90.90 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔ ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل کی قیمت میں 12.21 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، جو حالیہ مہینوں میں تیل کی قیمتوں میں سب سے بڑا روزانہ اضافہ ہے۔
دوسری جانب، برطانوی کروڈ آئل کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور یہ 92.69 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی ہے۔ برینٹ آئل کی قیمتوں میں 8.52 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، جو عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی طلب اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی سیاسی اور فوجی کشیدگی، ساتھ ہی عالمی پیداوار میں کمی کے خدشات، تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی اہم وجہ ہیں۔ ان کے مطابق سرمایہ کار عالمی مارکیٹ میں تیل کے مستقبل کے حوالے سے محتاط ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں۔
عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتیں نہ صرف توانائی کی عالمی منڈی کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ ترقی پذیر ممالک میں ایندھن کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر رہی ہیں، جس سے صارفین اور صنعتوں دونوں پر مالی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوتا رہا، تو عالمی تیل کی قیمتیں مزید بلند سطحوں تک پہنچ سکتی ہیں، اور اس کے عالمی اقتصادی اثرات وسیع پیمانے پر محسوس کیے جائیں گے۔





