ایران جنگ کے اثرات پاکستان تک پہنچ گئے! ادویات، فارمولا دودھ اور ویکسینز کی قیمتیں بڑھنے لگیں

ایران جنگ کے اثرات پاکستان تک پہنچ گئے! ادویات، فارمولا دودھ اور ویکسینز کی قیمتیں بڑھنے لگیں

اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے اثرات اب پاکستان کی مارکیٹ میں بھی محسوس کیے جانے لگے ہیں۔ ملکی دواسازی کی صنعت، بچوں کا فارمولا دودھ، ویکسینز اور دیگر زندگی بچانے والی ادویات کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

درآمد کنندگان نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ طویل ہو گئی تو پاکستان میں ادویات کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے دل، کینسر، ذیابیطس اور دیگر سنگین بیماریوں کے علاج میں مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔

دواسازی کے شعبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق بین الاقوامی پروازوں کی معطلی اور عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں کی وجہ سے ادویات اور خام مال کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ مختلف فضائی راستوں کی بندش اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث ترسیل میں تاخیر اور اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

درآمد کنندگان نے مزید کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے ہفتوں میں پاکستان میں ادویات اور ویکسینز کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں بازار میں کمی اور قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خدشہ ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی حالیہ قیمتوں میں اضافے کے بعد ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں غیر سرکاری طور پر بڑھنے لگیں۔ دواساز کمپنیوں کے مطابق ایندھن اور ترسیل کے بڑھتے ہوئے اخراجات پیداواری لاگت میں اضافہ کر رہے ہیں، جس کا اثر مارکیٹ میں ادویات کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق پاکستان کئی دہائیوں بعد بھی ادویات کے بنیادی خام مال کی مقامی پیداوار شروع نہیں کر سکا، جس کی وجہ سے ملک کا انحصار بیرونی درآمدات پر ہے۔ زیادہ تر خام مال چین، یورپ اور خلیجی راستوں سے پاکستان پہنچتا ہے، اور خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث دبئی کے راستے پر بھی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔

صنعتی ذرائع کے مطابق پاکستان میں موجودہ ذخائر تقریباً 1.5 سے 2 ماہ کے لیے کافی ہیں، تاہم اگر سپلائی بحال نہ ہوئی تو کئی ادویات کی پیداوار عارضی طور پر رکنے کا خدشہ ہے۔

ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر ادویات کے خام مال کے متبادل ذرائع تلاش کیے جائیں، اسٹریٹجک ذخائر قائم کیے جائیں اور مقامی سطح پر دواسازی کے بنیادی خام مال کی پیداوار کے لیے صنعت کو مراعات دی جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے بحرانوں سے بچا جا سکے۔

Scroll to Top