افغانستان کے ضلع کُنڑ کے ایک خفیہ مقام پر پاکستان کی جانب سے کی گئی ٹارگٹڈ کارروائی سے متعلق سنسنی خیز تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس کارروائی میں بھارت کی خفیہ ایجنسی “را” کا اہم افسر شنکر سنہا ہلاک ہوگیا، جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا سربراہ نور ولی محسود شدید زخمی ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے وقت مذکورہ مقام پر ایک انتہائی اہم اور خفیہ اجلاس جاری تھا۔ اس اجلاس میں مبینہ طور پر ٹی ٹی پی، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، افغان طالبان، بھارت کی “را” اور ایک مشرق وسطیٰ کے ملک کے ایجنٹس شریک تھے۔
ہلاک ہونے والا شنکر سنہا پاکستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا تھا اور طویل عرصے سے افغانستان سے سرگرم تھا۔ وہ بی ایل اے اور افغان طالبان کے درمیان رابطہ کار کا کردار بھی ادا کر رہا تھا۔
ذرائع کے مطابق شنکر سنہا کے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے بعض عناصر کے ساتھ قریبی روابط تھے، اور وہ بھارت کی جانب سے فراہم کردہ فنڈز اور جدید اسلحہ دہشت گرد گروہوں میں تقسیم کرنے کا براہ راست ذمہ دار تھا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں حالیہ تخریب کاری کی لہر اسی “را” ایجنٹ کی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی، جو ایجنسی کے “اسپیشل ڈیسک” سے براہ راست ہدایات حاصل کر رہا تھا۔





