کابل میں ہسپتال کو نشانہ بنانے کا دعویٰ جھوٹ نکلا، جیو لوکیشن ڈیٹا نے طالبان کا پول کھول دیا

کابل میں گزشتہ رات ہونے والی پاکستانی فضائی کارروائی کے حوالے سے افغان طالبان اور بعض عالمی میڈیا حلقوں کا ایک اور بڑا پروپیگنڈا بری طرح بے نقاب ہو گیا ہے۔

افغان طالبان کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے دو ہزار بستروں پر مشتمل امید ہسپتال کو نشانہ بنایا ہے لیکن حقائق اور جیو لوکیشن ڈیٹا نے اس جھوٹ کا پول کھول دیا ہے۔

تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ امید ہسپتال کابل کے مکرویان روڈ پر واقع ہے اور وہ مکمل طور پر محفوظ ہے جبکہ فضائی کارروائی کا اصل ہدف کابل ننگرہار روڈ پر واقع کیمپ فینکس تھا جو کہ نیٹو کا سابقہ فوجی اڈا ہے۔

جیو لوکیشن ڈیٹا کے مطابق ان دونوں مقامات کے درمیان سات اشاریہ تین کلومیٹر کا طویل فاصلہ ہے جو کسی بھی قسم کی غلطی کے امکان کو رد کرتا ہے۔

سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی تازہ ترین تصاویر بھی اس حقیقت کی گواہی دے رہی ہیں کہ جس جگہ کو نشانہ بنایا گیا وہ دراصل ایک عسکری کیمپ ہے جہاں طالبان کی بیرکیں اور اسلحہ ڈپو موجود تھے۔

ان شواہد کے سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ ہسپتال کو نشانہ بنانے کا دعویٰ محض ایک منظم پروپیگنڈا تھا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

Scroll to Top