افغان طالبان رجیم کا پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

اسلام آباد: افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کے خلاف کیے گئے مبینہ دعوؤں اور پروپیگنڈے کی حقیقت سامنے آ گئی، جہاں عالمی اور افغان میڈیا نے کابل کے ایک ہسپتال پر حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کے دعوے کو بے بنیاد قرار دے دیا۔

رپورٹس کے مطابق دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد افغان طالبان کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، جس کے باعث وہ صورتحال کو مختلف انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ جس حملے کو بڑے جانی نقصان سے جوڑا جا رہا تھا، اس کے شواہد زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق متاثرہ مقام پر نہ تو بڑے پیمانے پر تباہی کے آثار ملے اور نہ ہی سینکڑوں ہلاکتوں کے دعوے کی تصدیق ہو سکی۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بحالی مرکز کے قریب لگنے والی آگ معمولی نوعیت کی تھی، جو ممکنہ طور پر قریبی عسکری مقام کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں بھڑکی۔

کئی افغان میڈیا اداروں جن میں مقامی اور بین الاقوامی ذرائع شامل ہیں، نے بھی کسی بڑے جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔

عینی شاہدین اور رپورٹرز کے مطابق کابل کے مرکزی ہسپتال میں محدود تعداد میں زخمی زیر علاج ہیں، جن کی تعداد تقریباً 15 بتائی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کابل میں منشیات کے ہسپتال پرحملے کے دعوے ان لوگوں کی طرف سے آ رہے ہیں جو مسجدوں پر حملے کرواتے ہیں، خواجہ آصف

دوسری جانب اقوام متحدہ کی جانب سے بھی 400 ہلاکتوں کے دعوے کی توثیق نہیں کی گئی، جس سے ان دعوؤں کی ساکھ مزید کمزور ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق طالبان حکومت کے بیانات اور زمینی حقائق میں واضح تضاد پایا جاتا ہے، جو گمراہ کن معلومات پھیلانے کی نشاندہی کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں معلومات کی درستگی نہایت اہم ہے، اور غیر مصدقہ دعوؤں سے خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔

Scroll to Top