عمران خان کی رہائی کے لیے مجوزہ ٹاسک فورس کے قیام پرپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اعلیٰ قیادت میں اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے باعث پارٹی کے اندر واضح تقسیم سامنے آ رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی کے متعدد سینئر رہنماؤں نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے موجودہ حالات میں کسی بھی نئی احتجاجی حکمت عملی کو نامناسب قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز کے پیش نظر تصادم کی سیاست کے بجائے مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اپنانا زیادہ بہتر ہوگا۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سینئر قیادت نے اپنی رائے سے سہیل آفریدی کو بھی آگاہ کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس وقت کسی نئی محاذ آرائی کے نتائج پارٹی کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ قیادت کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ اگر دوبارہ اسلام آباد کی جانب مارچ یا احتجاجی مہم شروع کی گئی تو اس سے نہ صرف سیاسی کشیدگی بڑھے گی بلکہ کارکنان کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سینئر رہنماؤں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ مجوزہ ٹاسک فورس کا بنیادی مقصد اگر احتجاجی سرگرمیوں کو منظم کرنا ہے تو موجودہ حالات میں یہ حکمت عملی دانشمندانہ نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق کارکنان پہلے ہی مختلف دباؤ کا شکار ہیں، اس لیے انہیں مزید کسی بڑے احتجاج میں جھونکنا مناسب نہیں۔
واضح رہے کہ سہیل آفریدی نے 19 اپریل کو بانی چیئرمین کی رہائی کے لیے ٹاسک فورس تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا، تاہم پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ دنوں میں پارٹی قیادت کی مشاورت کے بعد ہی کوئی حتمی لائحہ عمل طے کیا جائے گا، جس سے یہ واضح ہوگا کہ تحریک انصاف احتجاج، مذاکرات یا کسی درمیانی راستے کا انتخاب کرتی ہے۔





