خیبر پختونخوا حکومت نے سرکاری افسران کی تعیناتیوں اور تبادلوں کے نظام میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کیلئے نئی روٹیشن پالیسی نافذ کر دی ہے۔
پالیسی کے تحت تمام سرکاری افسران کیلئے دو سالہ ٹینور مکمل ہونے پر تبادلہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق تمام محکموں کو افسران کی تعیناتیوں کا جامع جائزہ لینے اور دو سال مکمل کرنے والے افسران کے تبادلوں کی تجاویز تیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس پالیسی کا اطلاق سیکرٹریٹ، ڈائریکٹوریٹس اور دیگر سرکاری دفاتر پر ہوگا۔
نئی پالیسی کے تحت ٹرانسفر اور پوسٹنگ صرف مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق کی جائیں گی، جبکہ مقررہ مدت سے زائد تعیناتی کی صورت میں باقاعدہ جواز پیش کرنا ہوگا۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ادارہ جاتی توازن برقرار رکھنا اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی پی او کرک سعود خان اسلام آباد پولیس ٹرانسفر، تعیناتی کا انتظار
ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ نے اس حوالے سے تمام محکموں اور متعلقہ حکام کو مراسلہ جاری کر دیا ہے اور پالیسی پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکومت نے اس روٹیشن پالیسی کو مستقل انتظامی عمل کا حصہ بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ نے تمام محکموں کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے فوری عملدرآمد کی ہدایت کر دی ہے۔





