خیبر پختونخوا سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے قائم کی گئی مبینہ ’’رہائی فورس‘‘ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ڈرامہ قرار دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مختلف کارکنان کی جانب سے جاری ویڈیو پیغامات میں کہا گیا ہے کہ وہ گزشتہ دو برس سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، تاہم اس سلسلے میں عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ کارکنان کا مؤقف ہے کہ پارٹی قیادت کو بارہا آگاہ کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے رہائی کی تحریک کے حوالے سے ذمہ داری مخصوص افراد کو سونپی ہے، لیکن اس پر پیش رفت نہیں ہو سکی۔
پی ٹی آئی کارکن ظہیر عباس نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے مسلسل اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ عوام میں جا کر تحریک چلائی جائے گی، مگر تاحال اس حوالے سے کوئی واضح عملی اقدام سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق کارکنان قیادت کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ کب باقاعدہ تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے اندر مختلف رہنماؤں کے درمیان ذمہ داریوں کے تعین کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے، جس کے باعث کارکنان میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے منظم اور فعال تحریک شروع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کارکنان نے قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھے اور عملی اقدامات کرے، جبکہ دیگر کارکنان سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ پارٹی کے مقاصد کے لیے متحرک ہوں۔





