خیبر پختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ڈگریوں کی فروخت کا بڑا سکینڈل بے نقاب

کاشف الدین سید
خیبر پختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک سنگین سکینڈل سامنے آیا ہے جہاں ترقی کے حصول کے لیے مبینہ طور پر ایم ایس سی سٹیٹسٹکس کی ڈگریاں فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ہائر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی (HERA) کی جانب سے محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کو ارسال کردہ مراسلے کے مطابق چارسدہ کے نجی تعلیمی ادارے آزاد اسلامیہ ڈگری کالج کے خلاف سنگین شکایات موصول ہوئی ہیں۔

مذکورہ کالج کو 13 مارچ کوضابطہ کی متعدد خلاف ورزیوں پر نوٹس بھی جاری کیا جا چکا ہے۔

مراسلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مذکورہ ادارہ بعض افراد کو اے ایس ٹی (AST) سے ایس ایس (SS) کے عہدوں پر ترقی دلوانے کے لیے ایم ایس سی سٹیٹسٹکس کی غیر قانونی ڈگریاں فراہم کر رہا ہے۔

حیران کن طور پر ان ڈگریوں کے حامل کئی افراد کا سٹیٹسٹکس یا متعلقہ مضامین سے کوئی تعلیمی پس منظر ہی نہیں ہے جس سے ان اسناد کی قانونی حیثیت اور شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ ڈگریاں گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان سے منسلک ظاہر کی جا رہی ہیں جبکہ قواعد کے مطابق چارسدہ کے کالجز کو باچا خان یونیورسٹی کے علاوہ کسی دوسری جامعہ سے الحاق کی اجازت نہیں ہے۔ کسی بھی دوسری یونیورسٹی سے الحاق کے لیے باقاعدہ این او سی (NOC) حاصل کرنا لازمی ہے جو کہ اس کیس میں موجود نہیں ہے۔

اتھارٹی نے اس معاملے کو سنگین انتظامی مسئلہ قرار دیتے ہوئے فوری تحقیقات کی سفارش کی ہے۔ ہدایت جاری کی گئی ہے کہ متعلقہ افراد کی اسناد کی جانچ پڑتال ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کے اجلاس سے قبل مکمل کی جائے تاکہ میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔

Scroll to Top