وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے ضلع خیبر کے قومی مشران اور قبائلی عمائدین پر مشتمل وفود سے ملاقاتیں کیں، جن میں عوامی مسائل، امن و امان اور ترقیاتی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ قومی مشران اور عمائدین نے علاقے کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لیے تجاویز پیش کیں۔
ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضم اضلاع کے لیے این ایف سی کی مد میں 1375 ارب روپے واجب الادا ہیں، جبکہ انضمام کے وقت وفاقی حکومت نے ضم اضلاع کے لیے سالانہ 100 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم سات سال میں صرف 168 ارب روپے فراہم کیے گئے، یعنی 532 ارب روپے اب بھی بقایا ہیں۔ سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ وفاق کی جانب سے ضم اضلاع کے ساتھ مسلسل زیادتی کی جا رہی ہے اور یہ مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ ضم اضلاع کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا جامع ترقیاتی پیکج تیار کیا جا رہا ہے، جس میں ہر ضلع اور ہر شعبے کے لیے ترقیاتی منصوبے شامل ہوں گے، تاکہ کوئی علاقہ ترقی سے محروم نہ رہے۔ عوامی نمائندوں کی مشاورت سے تیراہ پیکج کی تیاری کا کام جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باڑہ ڈیم کے لیے آئندہ مالی سال میں فنڈز مختص کیے جائیں گے اور خیبر انڈسٹریل زون پر کام جاری ہے۔ ضلع خیبر کے جبہ ڈیم کا مسئلہ حل ہو گیا ہے جبکہ ریگی للمہ کا مسئلہ قومی مشران اور عمائدین کی مشاورت سے حل کیا جائے گا۔ تیراہ کے عوام کا جبری انخلاء اور 4 ارب روپے کے فلاحی اقدامات پر تنقید کے باوجود صوبائی حکومت مکمل اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کے رویے پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ بعض عناصر قبائل کو جان بوجھ کر ترقی سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔ تیراہ متاثرین کے معاوضوں کی کمٹمنٹ آئندہ ہفتے تک کلیر کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور اگر وفاق وعدے پورے نہیں کرتا تو احتجاج ہمارا حق ہے۔





