پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سالار خان وزیر نے خیبر پختونخوا کابینہ میں توسیع کے عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوشل میڈیا پر سنگین انکشافات کی بوچھاڑ کر دی ہے ۔
سالار خان وزیر نے اپنے سلسلے وار بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ روز 15 وزراء کو کروڑوں روپے کی پیشکش کی گئی ہے، جن میں سے بعض کو چار کروڑ، کسی کو سات کروڑ اور کسی کو دو سے تین کروڑ روپے تک کا لالچ دے کر وزارتوں کاسودا کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ میں یہ سیاہ حروف میں لکھا جائے گا کہ جب پارٹی قائد بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ جیل میں کڑے وقت سے گزر رہے تھے اور ان کی صحت و بینائی تک متاثر ہو رہی تھی، اس دوران ان کے نام پر ووٹ لے کر اسمبلیوں میں پہنچنے والے کچھ مفاد پرست عناصر اپنی دکانداری چمکانے اور ضمیر کی سودے بازی میں مصروف تھے۔
انہوں نے ایسے افراد کو اخلاقی طور پر گرے ہوئے لوگ قرار دیتے ہوئے شدید دکھ کا اظہار کیا ہے۔
اپنے ٹویٹس میں سالار خان وزیر نےپلستر خٹک نامی شخصیت پر براہ راست کرپشن کے الزامات عائد کیے اور دعویٰ کیا کہ کرک سے خورشید خٹک کی وزارت سات کروڑ روپے کے عوض کنفرم کی گئی ہے جبکہ پشاور سے قاسم علی شاہ کو بھی چار کروڑ روپے میں وزارت کی پیشکش کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایس ایف ملاکنڈ ریجن کے انچارج دلیر خان خٹک بھی اس گروہ کی حمایت میں میدان میں آچکے ہیں کیونکہ مبینہ طور پر اس پورے عمل کے پیچھے بھاری رقم کی لین دین شامل ہے اور پیسہ لینے کے بعد اب یہ لوگ ایک دوسرے کا تحفظ کر رہے ہیں۔





