امریکہ اور ایران کا پاکستان کی ثالثی پر مکمل اعتماد ہے،پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ

امریکہ میں تعینات پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے ایک معروف امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں خطے کی موجودہ صورتحال، ایران-امریکہ مذاکرات میں پاکستان کے کردار اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے حالیہ تنازعے میں ثالثی کا کردار وسیع تر علاقائی مفاد میں ہے۔ انہوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ دونوں فریقین نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا، جس پر پاکستان ان کا مشکور ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک نہایت پیچیدہ معاملہ ہے جس میں سیاسی، اقتصادی اور علاقائی عوامل کارفرما ہیں، تاہم پاکستان امن پر مبنی سفارت کاری کی ایک دیرینہ روایت رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حالیہ پیشکش نیک نیتی پر مبنی ہے جس میں دیگر علاقائی ممالک بھی شامل ہیں۔رضوان سعید شیخ نے امید ظاہر کی کہ معاملات کو خطے کے وسیع تر مفاد میں آگے بڑھایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سفارت کاری ایک تدریجی عمل ہے جس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، اور پاکستان نتیجہ خیز بات چیت کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، تاہم حتمی فیصلوں کی ذمہ داری متعلقہ فریقین پر عائد ہوتی ہے۔

افغانستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے واضح کیا کہ پاکستان سرحد پار سے جنم لینے والی دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی کارروائیوں اور ٹھکانوں کی بارہا نشاندہی کے باوجود افغان حکومت کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ ہونے پر پاکستان کو مجبوراً خود اقدامات کرنا پڑے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے عوام کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھتا نہیں دیکھ سکتا، اور افغانستان سے جنم لینے والی ریاستی دہشت گردی کے واضح شواہد موجود ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کو بھارتی سرپرستی حاصل ہے۔سفیر پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

Scroll to Top