سینئر صحافی طارق آفاق نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بھائی عامر آفریدی کی جانب سے پختونوں کے مقبول میڈیا پلیٹ فارم پختون ڈیجیٹل کو قانونی نوٹس بھیجے جانے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بہت افسوس کا مقام ہے کہ وزیراعلیٰ کا بھائی اٹھ کر ایک ایسے پلیٹ فارم کو نوٹس بھیج رہا ہے جو پوری دنیا میں پختونوں کی آواز ہے، اور اس نوٹس کا مقصد صرف یہ ہے کہ ان کی مبینہ کرپشن، ترقیاتی اسکیموں میں کمیشن اور چوری کے خلاف آواز نہ اٹھائی جائے اور ان کے کالے کارنامے عوام کے سامنے نہ لائے جائیں۔
طارق آفاق نے کہا کہ یہ نوٹس ان کی مخصوص ذہنیت اور خطرناک طریقہ واردات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک سے لے کر سہیل آفریدی تک ہم ان کی تین حکومتیں برداشت کر رہے ہیں اور ان کا طریقہ کار ہمیشہ یہی رہا ہے کہ دوسروں پر چوری کا لیبل لگا کر خود اس کی آڑ میں چوری کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکمران سمجھتے ہیں کہ ہرجانے کے نوٹسوں سے حق کی آواز بلند کرنے والے صحافیوں اور قلم کے مزدوروں کو خاموش کر دیا جائے گا، تو یہ ان کی خام خیالی اور غلط فہمی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اب یہ سلسلہ مزید شدت کے ساتھ اٹھے گا اور وہ تمام چیزیں سامنے لائی جائیں گی جن کے باقاعدہ دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ طارق آفاق کے مطابق ان کے نوٹس میں ایسی کئی اسکیمیں ہیں جہاں کرپشن ہو رہی ہے اور ان بنگلوں کی تفصیلات بھی موجود ہیں جہاں سودے بازی اور ساز باز کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ باتیں اب صرف صحافی ہی نہیں بلکہ خود ان کے اپنے ورکرز سوشل میڈیا پر کر رہے ہیں کہ اسلام آباد اور ایبٹ آباد میں کن کن وزراء اور ان کے بھائیوں کے گھر اور جائیدادیں ہیں۔
سینئر صحافی نے مشورہ دیا کہ لیگل نوٹسز بھیجنے کے بجائے حکمران اپنے کردار اور کرتوتوں پر نظر ثانی کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحافت میں طویل عرصہ گزارنے کے دوران ہم نے پیکا (PECA) جیسے کئی کالے قوانین اور نوٹسز کا سامنا کیا ہے، لیکن صحافی نہ کبھی دباؤ میں آیا ہے اور نہ ہی ڈر کر خاموش ہوا ہے۔
طارق آفاق نے عزم ظاہر کیا کہ اس مٹی اور ہوا کا ہم پر حق ہے جہاں ہمارے والدین کی ہڈیاں دفن ہیں، اس لیے نعروں کی آڑ میں چوری کرنے والوں کو ہر صورت بے نقاب کر کے عوام کے سامنے لائیں گے۔





