وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 50 واں اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت تمام کارروائی ویڈیو لنک کے ذریعے مکمل کی گئی۔
اجلاس میں 28 نکاتی مرکزی ایجنڈے اور چار نکاتی اضافی ایجنڈے پر تفصیلی غور و خوض کے بعد متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کابینہ نے ضم شدہ اضلاع کے لیے اسٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی آف ایپلائیڈ اینڈ ماڈرن سائنسزکے قیام کی منظوری دے دی ہے اور اس منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے وزیر بلدیات کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
کفایت شعاری مہم کے حوالے سے کابینہ نے زرعی یونیورسٹی میں معاون عملے کی 55 خالی آسامیوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے صوبائی خزانے کو ماہانہ 90 لاکھ روپے کی بچت ہوگی۔ اس کے علاوہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے سرکاری افسران کی دو دن کی بنیادی تنخواہ میں رضاکارانہ کٹوتی کی تجویز پر بھی اصولی اتفاق کیا گیا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومتی پالیسی کے باعث سرکاری گاڑیوں کے پی او ایل اخراجات میں اب تک مجموعی طور پر 60 فیصد کٹوتی کی جا چکی ہے۔
تعلیم کے شعبے میں ایک بڑے قدم کے طور پر کابینہ نے 450 ملین روپے کی لاگت سے میٹرک ٹیک اور انٹر ٹیک پروگرامز شروع کرنے کی منظوری دی ہے جس کے تحت 70 سرکاری اسکولوں کو سینٹر آف ایکسیلنس کا درجہ دیا جائے گا اور 1650 طلبہ کو جدید تکنیکی مہارتوں کے لیے اسکالر شپس فراہم کی جائیں گی۔ ساتھ ہی اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں پوسٹنگ ٹرانسفرز گائیڈ لائنز کی منظوری بھی دی گئی ہے تاکہ دور افتادہ علاقوں کے کالجوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔
صحت کے شعبے میں کابینہ نے سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہاسپٹل کو ایم ٹی آئی کا درجہ دینے، تیمرگرہ میڈیکل کالج کو فعال کرنے کے لیے 993 ملین روپے جاری کرنے اور صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں 598 پیڈ انٹرنی نرسوں کی نئی آسامیوں کی تخلیق کی منظوری دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ فاطمید فاؤنڈیشن کو تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کے علاج کے لیے ایک کروڑ روپے اور پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا 27 مستحق مریضوں کے لیے بھی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دیگر اہم فیصلوں میں مون سون سیزن کے دوران ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے محکمہ ریلیف کو 785 ملین روپے جاری کرنے، لوئر چترال کے سرحدی علاقے ارندو کے متاثرہ خاندانوں کے لیے 20 ملین روپے کی امداد اور پاک افغان سیریز و ایشیا کپ میں شریک وہیل چیئر کرکٹ کھلاڑیوں کی مالی معاونت شامل ہے۔
کابینہ نے بجلی کی فیسوں کی ڈیجیٹل ادائیگیوں اور آنے والے مالی سال کے لیے بجٹ اسٹریٹجی پیپر 2026-27 کی بھی منظوری دے دی ہے۔





