بینک صارفین کی الجھن ختم، ٹیلی کام سیکٹر نے وضاحت دے دی

پاکستان کی معروف ٹیلی کام کمپنیوں یوفون، جاز اور زونگ نے واضح کیا ہے کہ بینکنگ لین دین کے متعلق ایس ایم ایس الرٹس کی فیس کا تعین بینک خود کرتے ہیں، نہ کہ ٹیلی کام آپریٹرز۔

یہ وضاحت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات میں حالیہ بحث کے بعد سامنے آئی۔ٹیلی کام انڈسٹری کے مطابق عموماً بینک براہِ راست ٹیلی کام نیٹ ورکس سے منسلک نہیں ہوتے بلکہ ایس ایم ایس الرٹس تیسرے فریق کے لائسنس یافتہ ایگریگیٹرز کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں۔

یہ ایگریگیٹرز پیغامات کی ترسیل، روٹنگ اور دیگر تجارتی امور سنبھالتے ہیں، جس کے بعد پیغامات ٹیلی کام کمپنیوں تک پہنچتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیلی کام آپریٹرز صرف نظام کا حصہ ہیں اور صارفین پر عائد حتمی چارجز پر ان کا براہِ راست کنٹرول نہیں ہوتا۔

آپریٹرز کارپوریٹ معاہدوں کے تحت بلک میسجنگ سروسز فراہم کرتے ہیں، چاہے وہ براہِ راست ہوں یا ایگریگیٹرز کے ذریعے۔

ٹیلی کام کمپنیاں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ بینک اپنے صارفین کے لیے ایس ایم ایس الرٹ فیس خود طے کرتے ہیں، اور اکثر یہ فیس اصل لاگت سے زیادہ ہوتی ہے۔

انڈسٹری ذرائع کے مطابق تمام چارجز کا ذمہ دار صرف ٹیلی کام کمپنیوں کو ٹھہرانا درست نہیں کیونکہ یہ پورا نظام متعدد مراحل پر مشتمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور: تاریخی راج کپور حویلی کو زلزلے کے جھٹکوں سے جزوی نقصان

مزید برآں آپریٹرز نے سینیٹ کمیٹی کو ٹرانزیکشن کی تعداد اور سروس ریٹس سمیت تفصیلی ڈیٹا فراہم کرنے کی پیشکش کی تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ان کی جانب سے کوئی اضافی چارجنگ نہیں کی جا رہی۔

پاکستان میں ٹیلی کام خدمات پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی نگرانی میں ہیں، اور آپریٹرز نے تمام ضوابط کی پاسداری کے عزم کا اعادہ کیا۔

انڈسٹری نمائندگان نے محفوظ ڈیجیٹل بینکاری اور مالی شمولیت بڑھانے کے عزم کو بھی دہرایا، جبکہ ریگولیٹرز اور پالیسی سازوں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔

واضح رہے کہ چند روز قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بینک صارفین پر عائد ایس ایم ایس چارجز میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور بینکوں و ٹیلی کام کمپنیوں کو لاگت کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔

Scroll to Top