باجوڑ جلسے میں عوام اور پی ٹی آئی کارکنوں کی قیادت سے اظہار بیزاری، تصاویر پر ’پبلک ریجیکٹڈ‘ لکھ کر شرکت

باجوڑ جلسے میں عوام اور پی ٹی آئی کارکنوں کی قیادت سے اظہار بیزاری، تصاویر پر ’پبلک ریجیکٹڈ‘ لکھ کر شرکت

باجوڑ سے رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا باجوڑ جلسہ ایک بار پھر ناکامی کا شکار ہوا، جہاں عوام نے شرکت میں دلچسپی ظاہر نہیں کی اور جلسہ گاہ میں کرسیاں خالی رہیں۔ تاہم جلسے کے دوران غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی جب پارٹی کے مقامی کارکنان نے اپنی ہی قیادت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

جلسہ گاہ میں موجود شرکا نے پی ٹی آئی کی ضلعی قیادت، خاص طور پر انجینئر اجمل اور سابق رکنِ قومی اسمبلی (ایم این اے) گل داد خان کے خلاف تحفظات کا کھل کر اظہار کیا۔ سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع کے مطابق، ایک کارکن نے ان کی تصاویر والا پوسٹر اٹھا رکھا تھا، جس پر بڑے حروف میں ’Public Rejected‘ کا پیغام درج تھا، جو عوامی ناراضگی اور قیادت سے بیزاری کا واضح مظہر تھا۔

ذرائع کے مطابق باجوڑ جرگے میں شامل شرکا کی تذلیل بھی کی گئی اور انہیں کرسیوں سے اٹھا کر پیچھے بھیج دیا گیا، جس سے موجود شرکا میں سخت برہمی اور ناراضگی دیکھنے میں آئی۔ عوام نے جلسے کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ان سیاسی تماشوں سے تنگ آچکے ہیں اور ساتھ یہ بھی پوچھا کہ کیا قیادت افغانستان کے حملے میں شہید ہونے والے 4 بھائیوں کے خاندانوں سے بھی مل رہی ہے

مقامی کارکنان نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کی قیادت عوامی مسائل حل کرنے اور ورکرز کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے میں ناکام رہی ہے، جس کے نتیجے میں جلسے میں یہ احتجاجی مظاہرہ سامنے آیا۔ پارٹی کے اندرونی اختلافات اور مقامی قیادت کی ناکامی مستقبل میں پی ٹی آئی کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچا سکتی ہے، خاص طور پر اپریل 2026 کے سیاسی منظرنامے میں جہاں دیگر جماعتیں متحرک ہو رہی ہیں۔

واضح رہے کہ باجوڑ تاریخی طور پر تحریکِ انصاف کا مضبوط گڑھ رہا ہے، تاہم ترقیاتی کاموں، پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم اور مقامی مسائل میں ناکامی نے کارکنان اور سابق نمائندگان کے درمیان خلیج پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات پارٹی کی مقبولیت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

Scroll to Top