وفاقی حکومت کا ملک بھر کے بازاروں اور شاپنگ مالز بند کرنے کا فیصلہ، باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے نفاذ کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر کے لیے بڑے فیصلوں کی منظوری دی گئی۔

وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی بچت کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے مارکیٹس اور شاپنگ مالز کو رات 8 بجے بند کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے، جبکہ بیکری، تندور، ریسٹورنٹ اور گراسری اسٹورز کے لیے رات 10 بجے بند ہونے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

شادی ہال اور دیگر مارکیٹس بھی رات 10 بجے بند ہوں گی، اور نئے اوقات کار ہفتے کے ساتوں دن نافذ ہوں گے۔

اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے ملک گیر کفایت شعاری اقدامات پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا۔

ان فیصلوں کا اطلاق 7 اپریل سے ہوگا، جبکہ سندھ حکومت میں ابھی مشاورت جاری ہے۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ وزیراعلیٰ سندھ بھی جلد اس قومی فیصلے کا حصہ بنیں گے۔

روزمرہ اشیاء کی دکانیں اور ڈیپارٹمنٹل اسٹورز رات 8 بجے بند ہوں گی، جبکہ بیکریاں، ریسٹورنٹ، تندور اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 10 بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔

شادی ہالز، مارکیز اور دیگر کمرشل مقامات سمیت نجی پراپرٹیز اور گھروں میں بھی شادی بیاہ کی تقریبات رات 10 بجے کے بعد نہیں ہو سکیں گی۔ البتہ میڈیکل اسٹورز اور فارمیسیز ان پابندیوں سے مستثنیٰ رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں : اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بڑی خبر، خیبر پختونخوا میں خصوصی عدالتیں قائم

وزیراعظم نے اجلاس میں اعلان کیا کہ گلگت اور مظفرآباد میں ایک ماہ کے لیے انٹراسٹی پبلک ٹرانسپورٹ مفت ہوگی، اور اس کے تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔ یہ اقدام عوام کے لیے سہولت اور پیٹرولیم مصنوعات کی بچت دونوں کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں دی گئی سبسڈی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے منتقل کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے اور اب تک ایک لاکھ ٹرانزیکشنز مکمل ہو چکی ہیں۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ ان اقدامات کا مقصد توانائی کی بچت اور قومی خزانے پر بوجھ کم کرنا ہے تاکہ معیشت کو مستحکم بنایا جا سکے اور آئندہ کے لیے وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

Scroll to Top