رپورٹ: عرفان خان
خیبرپختونخوا کے صوبائی وزرا کی مبینہ کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کے بعد صوبے کی صرف ایک تحصیل میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کرک میں تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے تمام متعلقہ ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

نیب کی جانب سے تحصیل میونسپل آفیسر کو جاری نوٹس کے مطابق گزشتہ ماہ 83 کروڑ روپے کے ترقیاتی ٹینڈرز جاری کیے گئے، جن میں کم ترین بولی (26، 23 اور 20 فیصد بیلو ریٹس) کو نظر انداز کرکے من پسند کنٹریکٹر کو نوازا گیا۔ اس اقدام سے قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔
نیب نے ٹی ایم او کرک سے بولی میں حصہ لینے والے کنٹریکٹرز، لاگت، میٹنگ منٹس اور متعلقہ حکام کی منظوری سمیت دیگر تمام ریکارڈ طلب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر بے ضابطگیاں ثابت ہوئیں تو ذمہ داران نہ صرف گرفتار کیے جا سکتے ہیں بلکہ ان سے مالی وصولی بھی کی جائے گی۔

نیب کی یہ کارروائی صوبے میں کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کے سلسلے میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، اور اس سے عوامی فنڈز کی حفاظت کے عزم کو اجاگر کیا گیا ہے۔





