اے این پی سوات کے سابق ضلعی صدر ایوب خان اشاڑی کی رہائشگاہ پر حملے کے واقعے نے صوبے میں سیاسی اور امن و امان کی صورتحال پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ صرف ایک فرد یا خاندان پر نہیں بلکہ اس سوچ پر حملہ ہے جو مالاکنڈ ڈویژن اور بالخصوص سوات میں دہشتگردی کے خلاف ڈٹ کر کھڑی رہی ہے۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ ایوب خان اشاڑی اور ان کے خاندان نے امن کے قیام کے لیے جو قربانیاں دی ہیں، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ چند روز قبل اے این پی سوات کے ضلعی سینئر نائب صدر ممتاز علی خان کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی، اور پے در پے ایسے واقعات یہ واضح ثبوت ہیں کہ ایک منظم سازش کے تحت پارٹی کے کارکنان اور قیادت کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے ہتھکنڈے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال دن بہ دن ابتر ہوتی جا رہی ہے اور دہشتگردی کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ پے در پے ایسے واقعات مرکزی و صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔
ایمل ولی خان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہر واقعے کے بعد روایتی طور پر الزامات افغانستان پر ڈال دیے جاتے ہیں، جبکہ اصل سوال یہ ہے کہ صوبے کے اندر دہشتگرد عناصر کی آزادانہ نقل و حرکت پر خاموشی کیوں اختیار کی گئی ہے۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ یہ نااہلی ہے یا پھر “گڈ” اور “بیڈ” کی تفریق کو دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں ثالثی اور امن کے دعوے کرنے والوں کو پہلے اپنے گھر میں لگی آگ بجھانے کی ضرورت ہے۔ جب تک ریاست داخلی سلامتی کو سنجیدگی سے نہیں لے گی، امن کا قیام محض ایک خواب ہی رہے گا۔ عوامی نیشنل پارٹی دہشت اور وحشت کے مقابلے میں کبھی بھی تسلیم نہیں ہوئی اور نہ ہی مستقبل میں ہوگی، اور ہر فورم پر دہشتگردی کے خلاف آواز بلند کرتی رہے گی۔





