پاکستان کی حالیہ شاندار سفارتی کامیابی نے جہاں عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند کیا ہے وہاں بھارت کی اہم شخصیات اور دانشور بھی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی صارفین، تجزیہ کاروں اور نامور دانشوروں نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں پاکستان کے کلیدی کردار کی کھل کر تعریف کی ہے۔
بھارتی پروفیسر اشوک سوین نے وائٹ ہاؤس کی ایک حالیہ پوسٹ شیئر کرتے ہوئے اسے پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز قرار دیا ہے۔
انہوں نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ بھارت ایک عرصے سے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ بھارت خود تنہائی کا شکار نظر آ رہا ہے جبکہ پاکستان عالمی امن کا مرکز بن چکا ہے۔
دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کی سفارتی کوششوں کو ’شاندار‘ قرار دیتے ہوئے ان کی بصیرت کی تعریف کی ہے۔
اسی طرح معروف بھارتی مصنف اتل کھتری نے سوشل میڈیا پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی سوچا نہ تھا کہ وہ پاکستان کے حق میں بات کریں گے، لیکن دنیا میں امن کے قیام کے لیے وہ پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
تیجسوی پراکاش نامی صارف نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ بطور بھارتی وہ پاکستان کی ثالثی پر ان کی شکر گزار ہیں کیونکہ جب مودی قیادت مکمل خاموش تھی اس وقت پاکستان نے اپنی کوششوں سے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے خطرے سے بچا لیا۔ ان کے مطابق پاکستان کا یہ اقدام عالمی سطح پر اس کی اہمیت کو ثابت کرتا ہے۔
بھارتی مصنف سنجے جاح نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ بھارت ایک حملہ آور کے ساتھ کھڑا نظر آیا جبکہ پاکستان اس جنگ میں امن کی راہیں تلاش کر رہا تھا جو جوہری تصادم کی نہج تک پہنچ چکی تھی۔ بھارتی دانشوروں کا ماننا ہے کہ اب بازی پلٹ چکی ہے اور کمزور سفارتکاری کی وجہ سے بھارت کو عالمی سطح پر بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔





