پاکستان نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر بڑھانے کا اہم فیصلہ کر لیا ہے۔
گوادر میں جدید آئل ریفائنری کے قیام کیلئے سعودی عرب کی جانب سے بھاری سرمایہ کاری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ذرائع وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق سعودی کمپنی آرامکو پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ مل کر تقریباً 10 ارب ڈالر کی لاگت سے ریفائنری قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، مجوزہ منصوبے کے تحت 60 فیصد سرمایہ کاری سعودی عرب جبکہ 40 فیصد سرمایہ کاری پاکستانی کمپنیاں کریں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں پاکستان کی بڑی توانائی کمپنیاں، جن میں پی ایس او، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل شامل ہیں، شراکت دار ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: قومی مشن، پٹرول کی بچت اور کفایت شعاری میں ہر شہری حصہ ڈالے ، وزیراعظم
مجوزہ آئل ریفائنری کی یومیہ پیداواری صلاحیت 4 لاکھ بیرل تک ہونے کا امکان ہے، جو ملک میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے درآمدی مشینری پر 20 سال تک ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ماہرین کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف توانائی کے شعبے میں خود کفالت بڑھے گی بلکہ گوادر کو علاقائی توانائی مرکز بنانے میں بھی مدد ملے گی۔





