پاکستان میں الیکٹرک بائیکس، گاڑیوں اور سولر سسٹمز کے لیے استعمال ہونے والی لیتھیم بیٹریوں کی مقامی سطح پر تیاری کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جسے ملک میں توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبے کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں لیتھیم بیٹریوں کی تیاری کا پہلا پلانٹ جلد کراچی میں فعال ہونے جا رہا ہے، جس کے بعد ملک میں بیٹریوں کی مقامی پیداوار کا باقاعدہ آغاز متوقع ہے۔
اس حوالے سے پاکستان سولر ایسوسی ایشن (پی ایس اے) نے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کو مکمل تعاون اور پیش رفت سے آگاہ کر دیا ہے۔
انگریزی روزنامے کی رپورٹ کے مطابق ایک اہم اجلاس میں ای ڈی بی کے چیف ایگزیکٹو حماد منصور نے بتایا کہ اس منصوبے سے متعلق نئی پالیسی وزارتِ صنعت و پیداوار کو ارسال کر دی گئی ہے، جبکہ لیتھیم بیٹریوں کے پرزہ جات کی درآمد پر ٹیکس میں کمی کے لیے نیشنل ٹیرف بورڈ سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔ حتمی منظوری کے بعد یہ تجاویز آئندہ بجٹ 2026-27 میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
حماد منصور کے مطابق اس پالیسی کا بنیادی مقصد ملک میں لیتھیم بیٹریوں کی مقامی تیاری کو فروغ دینا اور درآمد شدہ تیار شدہ بیٹریوں پر انحصار کم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت کا ملک میں پیٹرولیم سٹوریج بڑھانے کا فیصلہ
ان کا کہنا تھا کہ توانائی کا مستقبل بیٹری ٹیکنالوجی سے جڑا ہوا ہے، اس لیے سولر سسٹمز اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مقامی سطح پر پیداوار وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔
دوسری جانب ای وی ٹیکنالوجیز نامی کمپنی نے اس منصوبے کا عملی خاکہ پیش کیا ہے۔ کمپنی کی چیف ایگزیکٹو ہما خٹک نے بتایا کہ لیتھیم بیٹری پلانٹ کا آرڈر دے دیا گیا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ 2 سے 3 ماہ میں پیداوار کا آغاز ہو جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق یہ پلانٹ کراچی کے کورنگی انڈسٹریل ایریا میں قائم کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی طور پر اس کی پیداواری صلاحیت 4 میگاواٹ ہوگی، جس کے تحت ماہانہ تقریباً 2 ہزار لیتھیم بیٹریاں تیار کی جا سکیں گی۔





