تہران : ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک اہم معاہدہ طے پانے کے قریب تھا، تاہم امریکا کے سخت رویے نے اس عمل میں رکاوٹ ڈال دی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ تقریباً 47 برس بعد امریکا کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر تفصیلی اور سنجیدہ مذاکرات ہوئے۔ ان کے مطابق ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے مکمل نیک نیتی کے ساتھ ان مذاکرات میں حصہ لیا اور مثبت انداز میں بات چیت کو آگے بڑھایا۔
In intensive talks at highest level in 47 years, Iran engaged with U.S in good faith to end war.
But when just inches away from “Islamabad MoU”, we encountered maximalism, shifting goalposts, and blockade.
Zero lessons earned
Good will begets good will.
Enmity begets enmity.— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 12, 2026
عباس عراقچی نے کہا کہ دونوں فریقین اسلام آباد معاہدے سے محض چند قدم کے فاصلے پر تھے، لیکن امریکا کی جانب سے زیادہ سے زیادہ مطالبات، مؤقف میں تبدیلی اور سخت شرائط نے اس پیشرفت کو روک دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیک نیتی کا جواب نیک نیتی سے اور دشمنی کا جواب دشمنی سے دیا جاتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس پورے عمل کے دوران ایسے رویے دیکھنے میں آئے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے عزم کو دوبارہ آزمانے کی کوشش نہ کی جائے، بصورت دیگر کسی بھی غلطی کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ دوبارہ جنگ کا رخ نہیں کریں گے، انہیں اس کے نتائج کا اندازہ ہو گیا، دی اکنامسٹ
مزید برآں پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قانی نے کہا ہے کہ مزاحمتی محاذ پہلے سے زیادہ مضبوط ہے اور دشمن کو بغیر کسی کامیابی کے خطے سے نکلنے پر مجبور کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی شروع کرے گی اور ایران سے متعلق جہازوں کی نقل و حرکت پر سخت نگرانی کی جائے گی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔





