جعلی شناختی کارڈز کا بڑا جال بے نقاب؟ پی او آر اور افغان کارڈ ہولڈرز کی چھان بین شروع

خیبر پختونخوا میں جعلی شناختی دستاویزات کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر حکام نے پی او آر (پروف آف رجسٹریشن) اور افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کی وسیع پیمانے پر چھان بین کا عمل شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں گرفتار ہونے والے بعض مہاجرین کے پاس موجود پی او آر اور افغان سٹیزن کارڈز مشکوک پائے گئے، جس کے بعد ان کی تصدیق کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔

ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ پشاور کے مختلف علاقوں میں جعلی کارڈز بنانے کا غیر قانونی کاروبار جاری تھا، جس کے ذریعے بعض افراد نے جعلی شناختی دستاویزات حاصل کیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ نہ صرف مشکوک مہاجرین کے خلاف کارروائی کی جائے گی بلکہ جعلی کارڈز تیار کرنے والے پرنٹنگ نیٹ ورکس کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں مشتبہ افراد اور پرنٹنگ مراکز کی نگرانی شروع کر دی گئی ہے جبکہ بعض مقامات پر چھاپوں کی تیاری بھی جاری ہے۔

مزید برآں پی او آر اور افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کے حوالے سے جامع ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، جس میں ان کے کاروبار، جائیداد، گاڑیوں کی ملکیت اور اندرون و بیرون ملک روابط کی تفصیلات شامل ہوں گی۔

ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام کو ایسے افراد کے پاکستانی رشتہ داروں، خصوصاً سرکاری ملازمین سے تعلقات کی تفصیلات دوبارہ جمع کرانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

Scroll to Top