خیبرپختونخوا میں بڑھتے ہوئے مالی بحران کے باعث سرکاری جامعات شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں، جس کے نتیجے میں صوبائی حکومت نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت اہم فیصلے شروع کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق زرعی یونیورسٹی میں معاون عملے کی 55 خالی اسامیوں کو ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر تمام سرکاری جامعات سے بھی خالی اسامیوں کی تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اخراجات میں کمی اور مالی بحران پر قابو پانے کی کوششوں کا حصہ ہیں، اور آئندہ مرحلے میں دیگر یونیورسٹیز میں بھی خالی اسامیوں کے خاتمے کا امکان ہے۔
سرکاری جامعات میں مالی مشکلات اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی بھی ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس کے باعث تعلیمی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے نہ صرف خالی اسامیوں میں کمی بلکہ بعض تعلیمی شعبوں کو ختم کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں، جبکہ مختلف شعبہ جات میں زیر تعلیم طلبہ کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں تاکہ مستقبل کے فیصلوں میں رہنمائی حاصل کی جا سکے۔
اس سے قبل پشاور یونیورسٹی میں بھی چند تعلیمی شعبوں کو ختم کیا جا چکا ہے، جبکہ مزید سخت فیصلوں پر غور جاری ہے۔





