گیس بحران شدت اختیار کر گیا، لو پریشر اور بندش سے شہری پریشان

اسلام آباد: ملک بھر میں گیس کی بندش اور کم پریشر کی شکایات میں ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے اور گھروں میں کھانا پکانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سوئی ناردرن گیس کمپنی کو گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے، جہاں شارٹ فال ایک ہزار ایم ایم سی ایف ڈی سے تجاوز کر چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے باعث ایل این جی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس نے ملک میں جاری گیس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف بڑے شہروں میں گیس کا پریشر انتہائی کم ہو گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ صبح اور شام کے اوقات میں صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے، جب گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی تقریباً معطل ہو جاتی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایل این جی کی فراہمی میں تعطل کے باعث گیس کے شارٹ فال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ مقامی سطح پر بھی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔

شیوا گیس فیلڈ کی بندش کے باعث سسٹم میں شامل ہونے والی تقریباً 70 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی رک گئی ہے، جس نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا ایران مذاکرات کے فروغ اور خطے میں امن کیلئے کوششیں جاری رہیں گی: وزیراعظم

گنجان آباد اور ٹیل کے علاقوں میں بھی لو پریشر کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، سرگودھا، اوکاڑہ اور قصور سمیت دیگر شہروں میں گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے، جہاں شہری کئی گھنٹوں تک گیس سے محروم رہتے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ گیس کی غیر اعلانیہ بندش نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے اور متبادل ایندھن کا استعمال بھی مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔

دوسری جانب متعلقہ حکام صورتحال پر قابو پانے کے لیے اقدامات پر غور کر رہے ہیں، تاہم فوری ریلیف کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔

Scroll to Top