محمود خان اچکزئی کا 19 اپریل کے جلسے میں شرکت سے انکار، پی ٹی آئی اور اتحادیوں میں اختلافات سامنے آگئے

محمود خان اچکزئی کا 19 اپریل کے جلسے میں شرکت سے انکار، پی ٹی آئی اور اتحادیوں میں اختلافات سامنے آگئے

تحریک انصاف اور اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کے درمیان دراڑیں مزید گہری ہو گئی ہیں کیونکہ محمود خان اچکزئی نے 19 اپریل کو مردان میں ہونے والے جلسے میں شرکت کی باقاعدہ دعوت مسترد کر دی ہے۔

پارٹی ذرائع اور اتحاد کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی نے دو بڑے تحفظات کا اظہار کیا ہے جن میں ایک یہ کہ خیبر پختونخوا میں جلسوں کا انعقاد اب بے سود ہو چکا ہے اور دوسرا یہ کہ اس جلسے کے اعلان سے قبل اتحاد کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے صوبائی رہنما عاطف خان نے محمود خان اچکزئی اور اتحاد کے ترجمان سے رابطہ کر کے شرکت کی درخواست کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا۔

پی ٹی آئی کے ایک سینئر عہدیدار نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ محمود خان اچکزئی کا اعتراض جائز ہے کیونکہ یہ تیسری بار ہے کہ اہم فیصلوں میں اپوزیشن اتحاد کو سائیڈ لائن کیا گیا۔

پارٹی کے اندر ایک دھڑا خیبر پختونخوا کی نوجوان قیادت کو یکطرفہ فیصلوں کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے جبکہ دوسرے دھڑے نے مرکزی قیادت بالخصوص بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ ریاست کی منشا کے مطابق پارٹی چلا رہے ہیں اور بانی پی ٹی آئی کے لیے کوئی ریلیف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اس صورتحال میں پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات اس وقت مزید تلخ ہو گئے جب بعض رہنماؤں نے خیبر پختونخوا کے عہدیداروں کو سیاسی سمجھ بوجھ سے عاری قرار دیا اور شاہد خٹک جیسے رہنماؤں کے بیانات پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان شیخ وقاص اکرم نے تسلیم کیا ہے کہ پارٹی میں بعض امور پر رائے کا اختلاف موجود ہے اور اپوزیشن اتحاد کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے جلد اجلاس بلایا جائے گا۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف وزیراعلیٰ کے پی کا گروپ علیمہ خان کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر سخت گیر موقف اپنائے ہوئے ہے تو دوسری طرف مرکزی قیادت پر مفاہمت پسندی کے الزامات لگ رہے ہیں جس سے پارٹی کی مجموعی حکمت عملی مفلوج ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

Scroll to Top