بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے حکومت کا بڑا اور ہنگامی فیصلہ

اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی گرمی اور بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث ملک میں ممکنہ شارٹ فال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے اہم اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے پٹرولیم ڈویژن پاکستان کو باضابطہ خط ارسال کرتے ہوئے ملک میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فوری فراہمی کی درخواست کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاور ڈویژن نے مجموعی طور پر 400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی مانگی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار کو برقرار رکھا جا سکے، کیونکہ گرمی کی شدت میں مزید اضافے کے باعث طلب میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے۔

توانائی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایل این جی سے چلنے والے پاور پلانٹس کی بروقت فراہمی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اگر یہ پلانٹس مکمل صلاحیت کے ساتھ فعال نہ ہوئے تو ملک میں بجلی کا شارٹ فال سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

حکومتی اندازوں کے مطابق ایل این جی پر چلنے والے پلانٹس تقریباً 6 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ڈیزل اور فرنس آئل کے مقابلے میں اسپاٹ ایل این جی کارگوز کے ذریعے بجلی کی پیداوار نسبتاً سستی پڑتی ہے، جبکہ اگر ایل این جی کی فراہمی متاثر ہوتی ہے تو ملک کو مہنگے ایندھن خصوصاً ڈیزل پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : بابر نے معیار اتنا بلند کر دیا ہے کہ اب اس کے 30، 35 رنز بھی کم محسوس ہوتے ہیں، اظہر محمود

توانائی ماہرین کے مطابق اس صورتحال کا براہِ راست اثر صارفین پر پڑنے کا خدشہ ہے اور ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کے نرخ بڑھ سکتے ہیں، جس سے عوام پر مالی بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاور ڈویژن نے آئندہ ہفتوں کے لیے بجلی کی طلب اور رسد کا تفصیلی تخمینہ بھی تیار کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کے الیکٹرک نے بھی اپنی ایل این جی ضروریات سے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ پٹرولیم ڈویژن کو قطر سے ایل این جی کارگوز کی فوری فراہمی کے انتظامات تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار میں تسلسل برقرار رکھا جا سکے اور ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔

Scroll to Top